مکتوب آسٹریلیا — Page 170
170 اس دور کے بچے بھی ذہنی دباؤ کا شکار ہیں کچھ عرصہ قبل امریکہ میں ایک بچی Jessica ہوائی جہاز چلاتے ہوئے حادثہ کا شکار ہوگئی اس کی عمر صرف سات سال تھی۔اگر وہ بچ رہتی تو وہ دنیا کی سب سے کمسن پائلٹ ہوتی۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے سڈنی کی ایک مضمون نگار Jaslyn Hall لکھتی ہیں کہ آج کے دور کے بچے سخت ذہنی دباؤ کا شکار ہیں۔اس کا ثبوت یہ ہے کہ ۱۹۸۲ء اور ۱۹۹۳ء کے دوران نوجوانوں کی خود کشی میں پچاس فیصد اضافہ ہوا ہے۔بچپن سے ہی پہنی تناؤ میں پلے ہوئے بیچی جب بڑے ہو گے تو یہ تناؤ عام معاشرتی زندگی میں ضرور تلخی پیدا کرے گا۔اس کا تجزیہ کرتے ہوئے وہ بھتی ہیں کہ بچوں پر یہ دباؤ خود ان کے والدین اور معاشرہ کی طرف سے ڈالا گیا ہے۔جیسیکا (جو حادثہ کا شکار ہوئی ) کی والدہ نے کہا کہ تم کو پتہ نہیں میری بیٹی کو ہوائی جہاز چلانے کا کتنا شوق تھا۔وہ اپنی اس خواہش کے پورا کرنے میں آزاد تھی۔اس کی آزادی پر قدغن نہیں لگائی جا سکتی تھی۔سوال یہ ہے کہ کیا اتنی چھوٹی عمر کی بچی کو ہوائی جہاز کی حفاظت کا بوجھ اٹھانے پر مقرر کیا جا سکتا تھا یا اس کو اس کی اجازت دی جاسکتی تھی ؟ کیا بچوں کی تعلیم و تربیت کے لئے ان کو مناسب جسمانی سزا دینی چاہئے یا نہیں؟ یا پھر کیا بچوں کو شروع سے ہی آزاد چھوڑ دینا چاہئے ؟ ان کو اپنے فرائض سمجھنے کے قابل ہونے سے پہلے ہی سارے حقوق دے دینے میں کیا خطرات مضمر ہیں ؟ ان دونوں میں سے کون سی بات بچوں کی تربیت اور بہتر معاشرہ کی تعمیر کے لئے زیادہ مناسب ہے؟ وہ لکھتی ہیں کہ کسی زمانہ میں والدین بچوں کو بتایا کرتے تھے کہ کیا