مکتوب آسٹریلیا — Page 153
153 مردہ عضو کی تجدید کی کوشش انسان کے جسم میں اوسطاً دس ہزار ارب (Ten Trillion) سیلز ہوتے ہیں۔ہرسیل (Cell) کے مرکزہ (DNA) میں تین ارب جنیاتی حروف (Genetic Letters) ہوتے جن سے وہ ہدایات یا پروگرام مرتب ہوتا ہے جن کے مطابق جسم کا کوئی خاص حصہ بنتا اور کام کرتا ہے۔یہ ہدایات جو Genes کہلاتی ہیں اور تعداد میں تمہیں تا چالیس ہزار ہوتی ہیں ہرسیل کے اندر مالک نے رکھی ہوتی ہیں۔لیکن ہر عضو یا ٹشو میں کچھ ہدایات فعال (Active) ہوتی ہیں اور کچھ خوابیدہ (Dormant)۔ایسا ہونا ضروری ہے ورنہ جسم کا کوئی حصہ بھی نہ بن سکے۔اگر ان ہدایات کو اپنی مرضی کے مطابق فعال یا خوابیدہ بنایا جاسکے اور یہ پتہ چل جائے کہ جسم کے کونسے حصہ میں وہ کونسی ہدایات ہیں جو فعال یا خوابیدہ ہوتی ہیں اور ایسی تبدیلی کر کے اس کو جسم کے اس حصہ میں پہنچا دیا جائے تو وہ خود ہی وہاں افزائش پاکر مردہ حصہ جسم کا کام سنبھال لے گا۔اس کو Reprogramming of Genes کہا جاتا ہے۔یہ تجربات اب چوہوں پر ہورہے ہیں۔چوہے کی جلد سے سیل لے کر اس کی پروگرامنگ تبدیل کر کے اس کے مردہ عضو کی مرمت بطور تجربہ کی جارہی ہے۔ہارورڈ یونیورسٹی کے ریسرچرز کو امید ہے کہ یہ طریق انسانوں میں بھی کام کرے گا اور یوں ایک وقت آئے گا کہ کینسر، ذیا بیطس، الزائمر اور جسم کے دوسرے بیمار یا مردہ اعضا کی تجدید یا مرمت ممکن ہو سکے گی۔اور اس طریق کے لئے جنین (Embryo) تیار کرنے اور اس کو ضائع کرنے