مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 130 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 130

130 ہندوستان میں معصوم بچیوں کا قتل اور اس کی وجوہات اخبار انڈی پنڈنٹ میں خبر شائع ہوئی ہے کہ ہندوستان میں منھی بچیوں کے قتل کے واقعات آج کل بھی کثرت سے ہورہے ہیں۔بعض بچیوں کو گلا گھونٹ کر ہلاک کر دیا جاتا ہے۔بعض کو زہر دے دیا جاتا ہے یا کبھی ایسے واقعات ہوتے ہیں جیسے گجرات میں ہوا کہ ایک بچی کو اس کی ماں کے بازوؤں سے چھین کر ایک خالی گھر میں پھینک دیا گیا جہاں اس کی درد ناک چیچنیں کسی کا دل نہ ہلا سکیں اور بالآخر ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گئیں۔بچیوں کے قتل کا ایک اور طریق یہ ہے کہ پیدائش سے قبل بچے کی صنف مختلف ٹیسٹوں (جیسے Amniocentesis, Ultrasound) کے ذریعہ معلوم کر لی جاتی ہے اور اگر بچی ہو تو حمل گرا کر مار دیا جاتا ہے۔اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جب کہ باقی دنیا میں ہر سومردوں کے مقابلہ میں ۱۰۵ عورتیں ہیں، ہندوستان میں ان کی تعداد صرف ۹۳ ہے بلکہ بعض علاقوں میں تو ۱۰۰ مردوں کے مقابلہ میں صرف ۸۵ عورتیں ہیں۔اس پر اقوام متحدہ کے ادارہ یونیسف (Unicef) نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس سے زیادہ شرمناک بات اور کوئی نہ ہوگی کہ ہندوستان کی آبادی سے چار تا پانچ کروڑ بچیاں اور عورتیں غائب ہیں چنانچہ یکم جنوری ۱۹۹۲ء سے ہندوستان میں پیدائش سے پہلے بچہ کی جنس معلوم کرنا جرم قرار دے دیا گیا ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس حکم پر