مکتوب آسٹریلیا — Page 119
119 آسٹریلیا کی طرف سے دنیا کو فلو کے علاج کا تحفہ عام زکام تو الرجی یا جراثیم وغیرہ سے لگتا ہے لیکن انفلوئنزا جسے مختصر فلو کہا جاتا ہے ایک ایسے وائرس کی انفیکشن سے ہوتا ہے جو جلدی جلدی اپنی ہیئت بدل لیتا ہے (Mutate) جس کی وجہ سے اس پر کوئی دوا کارگر نہیں ہوتی۔جسم کا قدرتی مدافعتی نظام ہی وائرس کا مقابلہ کرتا ہے جو اپنی عمر پوری کر کے ختم ہوتا ہے اس لئے جب دوا سے زکام کو آرام نہ آئے تو کہتے تھے فلو ہو گیا ہے۔ایک زمانہ میں یوں بھی زکام کوفلو کہنا فیشن ہو گیا تھا اور غریبوں کو زکام اورامیروں کو فلو ہوا کرتا تھا۔یہ تو خبر ایک جملہ معترضہ تھا۔واقعہ یوں ہے کہ ۱۹۷۰ء کی دہائی کے آخر میں ڈاکٹر لیور Laver نے معلوم کیا کہ فلو کے وائرس کا ایک حصہ ایسا بھی ہے جو متغیر نہیں ہوتا چنانچہ وائرس کا پروٹین کرسٹل کی شکل میں اکٹھا کیا گیا۔۱۹۸۲ء میں ڈاکٹر کولمین نے اس مالیکیول کو کروڑوں گنا بڑا کیا تا کہ دوا اس جگہ پہنچائی جائے جو تبدیل نہیں ہوتی چنانچہ وہ جگہ اور دوا دریافت کر لی گئی لیکن یہ دوا وائرس کو ختم نہیں کرے گی بلکہ اس کی افزائش کو آہستہ کر دے گی اور اس طرح جسم کا مدافعتی نظام آسانی سے وائرس کو ختم کر سکے گا۔یہ دوا جو فلو کے خلاف ۹۵ فیصد مؤثر سمجھی جاتی ہے تین سال تک گلیکسو و یکم کے ذریعہ مارکیٹ میں آجائے گی۔(الفضل انٹر نیشنل 22۔3۔96)