مکتوب آسٹریلیا — Page 392
392 میں ملتا ہے جس کو Mitochondrial D۔N۔A کہا جاتا ہے۔اس ڈی این اے میں وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں (Mutations) آتی رہتی ہیں۔انہیں تبدیلیوں سے وقت کا اندازہ ہوتا ہے کہ کس نسل کا کس سے تعلق ہے اور کب سے وہ تبدیلیاں وقوع پذیر ہورہی ہیں یہ تبدیلیاں گویا تاریخی گھڑی(Historical Watch) کا کام دیتی ہے۔(ماخذ سڈنی مارننگ ہیرلڈ ۱۴، ۱۵ مئی ۲۰۰۵ء) یہ جدید تحقیق ہمارے لئے بہت دلچسپی کی حامل ہے۔اگر ابتدائی انسان وادی بلکہ میں آباد ہوئے تھے جس کا مرکزی مقام مکہ تھا تو وہی تمام دنیا کے لئے اُم القری یعنی بستیوں کی ماں ٹھہرتا ہے۔اسی جگہ پہلے نبی آدم مبعوث ہوئے ہوں گے اور جو زبان خدا نے انہیں سکھائی ہوگی وہی ( یعنی عربي ) اُمُّ الألسنه یعنی زبانوں کی ماں ہوگی جس سے بگڑ کر دنیا کی سب زبانیں وجود میں آئی ہوں گی پس تمام انسانوں کا نہ صرف روحانی مرکز ہی مکہ ٹھہرتا ہے بلکہ اصل وطن بھی وہی ٹھہرتا ہے نیز اسی جگہ کو خدا نے یہ عزت بخشی کہ جہاں پہلا نبی آیا تھا اور پہلی ہدایت نوع انسان کو عطا ہوئی تھی و ہیں آخری ہدایت لے کر خاتم النبین مبعوث ہوا تا ابتدا اور انتہاء باہم مشابہ ہوں۔