مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 375 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 375

375 66 ہوتا ہے۔اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ترکیب سے ایک نئی چیز پیدا ہوسکتی ہے۔“ (صفحه ۱۷۲) پس معلوم ہوا کہ جب کوئی چیز اپنی لازمی صفات سے محروم ہو جاتی ہے تو وہی اس کی موت ہوتی ہے اور جب وہ نئی حالت یا نئی ترکیب میں جدید صفات پاتی ہے تو یہ اس کی نئی زندگی کہلاتی ہے مثلاً سب جانتے ہیں کہ پانی آکسیجن اور ہائیڈ وجن کا مرکب ہے۔ہائیڈ ورجن بطور ایندھن جلتی ہے اور آکسیجن اسے جلنے میں مدد دیتی ہے لیکن وہ خاص نسبت (H2O) میں ملتے ہیں تو پانی وجود میں آتا ہے جو نہ جلتا ہے اور نہ جلنے میں مدد دیتا ہے بلکہ الٹا آگ کو بجھاتا ہے۔یوں ہائیڈ روجن اور آکسیجن دونوں اپنی پہلی صفات سے محروم ہو کر نئی صفات حاصل کر کے ایک نئی قسم کی زندگی پاتے ہیں۔جس نسبت سے عناصر باہم ملتے ہیں اس کی بھی بہت اہمیت ہوتی ہے۔اگر آکسیجن اور ہائیڈ وجن H2O2 کی نسبت سے ترکیب پائیں تو بجائے پانی کے ایک زہر بن جائے گا۔شرعی قوانین بھی طبعی قوانین کے متوازی چلتے ہیں چنانچہ جب انسان کی طبعی حالتیں صحیح تناسب میں کام کریں تو اعلیٰ اخلاق اور نیکی بن جاتے ہیں اور اگر ان کا تناسب بگڑ جائے تو بد خلقی اور برائی جنم لیتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ جسم اور روح کے تغیرات حیات اخروی پر بڑی عمدہ روشنی ڈالتے ہیں چنا نچہ فرمایا: یہ بھی طبعی تحقیقاتوں سے ثابت ہے کہ تین سال تک انسان کا پہلا جسم تحلیل پا جاتا ہے اور اس کے قائم مقام دوسرا جسم پیدا ہو جاتا ہے اور یہ یقینی امر ہے جیسا کہ دیکھا جاتا ہے کہ جب انسان کسی بیماری کی وجہ سے نہایت درجہ لاغر ہو جاتا ہے یہاں تک کہ ایک مشت استخوان رہ جاتا ہے تو صحت یابی کے بعد آہستہ آہستہ پھر وہ ویسا ہی جسم تیار ہو جاتا ہے۔سواسی طرح ہمیشہ کے لئے اجزاء جسم کے تحلیل پاتے ہیں اور دوسرے اجزاء ان کی جگہ لے لیتے ہیں پس جسم پر گویا ہر آن ایک موت ہے اور ایک حیات ہے۔ایسا ہی جسم کی طرح روح پر بھی تغیرات وارد ہوتے رہتے ہیں۔اس پر بھی ہر آن ایک موت اور ایک حیات ہے۔صرف یہ فرق ہے کہ جسم کے تغیرات ظاہر اور کھلے کھلے ہیں مگر جیسا روح مخفی ہے ایسا ہی اس کے تغیرات بھی