مکتوب آسٹریلیا — Page 26
26 علیہ السلام کھڑے کئے گئے ہیں اس لئے آپ کو اور آپ کے خلفاء کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کمیونزم کے انقلاب کے اٹھنے اور گرنے کے بارہ میں بھی وقت سے پہلے بتادیا گیا تھا۔چنانچہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفتہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ اپنی کتاب Cammunism & Democracy شائع کردہ وکالت تبشیر ربوہ میں فرماتے ہیں۔(انگریزی سے ترجمہ ): میں امریکہ کے لوگوں کی توجہ اس حقیقت کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ کمیونزم ایک ایسی برائی ہے جس کے بارہ میں بہت پہلے سے انتباہ کیا جا چکا تھا۔پہلے حز قیل نبی ، پھر Book of Revelations میں سیکی کے ذریعہ، پھر نبی کریم ﷺ کے ذریعہ اس کا ذکر قرآن کریم اور احادیث میں ہے۔ہمارے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس شر کے خلاف متعدد بار ۱۹۰۳ ء اور ۱۹۰۷ء کے درمیان اپنے الہامات کی بناء پر انتباہ فرمایا۔یہ عمل آپ کے خلیفہ اور پسر موعود یعنی میرے ذریعہ سے جاری ہے۔۱۹۰۴ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مندرجہ ذیل الہام ہوا۔: ” ایک مشرقی طاقت اور کوریا کی نازک حالت ( تذکره صفحه ۴۷۸ مورخه ارجولائی ۱۹۰۵ء) یہ پیشگوئی گزشتہ چھیالیس سال سے بار بار اور وسیع طور پر شائع شدہ ہے یہ وضاحت سے بتاتی ہے کہ کوریا ایک نازک خطہ بننے والا ہے اور ایک مشرقی طاقت اس کے معاملات میں الجھے گی۔یہ ایک معروف بات ہے کہ صدی کے آغاز سے ہی روس کوریا کے معاملات میں گہری دلچسپی لیتارہا ہے۔کوریا میں حالیہ تبدیلیوں کے پیش نظر اس الہام کی اہمیت پر مزید تبصرہ غیر ضروری ہے۔میں خود اپنی دور و یا کا ذکر کرنا چاہتا ہوں۔پہلی رویاء میں نے ۱۹۴۳ء کے آغاز میں دیکھی تھی۔یہ ۱۴ار اپریل ۱۹۴۳ء کے الفضل کے صفحہیم پر شائع ہوئی تھی۔یہ رویا واضح طور پر اشارہ کرتی تھی کہ روس کا اثر چین میں پھیل جائے گا۔یہ وہ وقت تھا جب روس جرمنی کے ہاتھوں سخت دباؤ کا شکار تھا اور چین جاپان