مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 299 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 299

299 سائنس دان کی نظر سے بھی دیکھا ہے چنانچہ قرآن کریم اردو تر جمہ میں سورۃ الصافات کی آیات ۶ تا ۱۱ کی تشریح میں لکھتے ہیں: ان آیات میں کائنات کے ظاہری نظام کا بھی ذکر ہے کہ کس طرح زمین کی فضا زمین پر ہمیشہ برسنے والے Meteors کو فضا ہی میں جلا کر راکھ کر دیتی ہے اور اسکے جلنے سے پیچھے ایک شعلہ دور تک لپکتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔اسی طرح یہ بھی فرمایا گیا کہ ایک زمانے میں انسان کائنات کی خبریں لینے کی کوشش کرے گا جسکا کوئی واہمہ بھی اُس زمانہ میں نہیں ہوسکتا تھا لیکن راکٹوں میں سفر کرنے والے ان انسانوں پر ہر طرف سے پتھراؤ کیا جائیگا اور یہ سماء الدنیا سے آگے نہیں بڑھ سکتے۔صرف نزدیک کے آسمان تک پہنچنے میں کسی حد تک کامیاب ہو سکتے ہیں۔“ (ایضاً صفحه ۷۸۵) یہی پیشگوئی سورہ رحمن میں بھی ہے کہ جن وانس اقطار السموات والارض سے آگے نکلنے کی جب کوشش کریں گے تو وہ ایسا نہیں کر سکیں گے اور ان پر شعلے گرائے جائیں گے۔حضور نے اپنے ترجمہ قرآن میں وحی کا پیچھا کرنے والوں کو شیاطین الانس ہی قرار دیا ہے چنانچہ فرماتے ہیں: روحانی طور پر اس سے مراد بد نیتی سے وحی کا نیغ کرنے والے اور اندازہ لگانے والے انسانی شیاطین ہیں۔شیطان تو نزول وحی کے قریب تک نہیں پہنچ سکتا لیکن انسانی شیطان جیسے سامری تھا کچھ اندازہ لگا سکا کہ وحی کی وجہ سے لوگوں پر کیوں رعب پڑتا ہے۔“ ( قرآن کریم اردو تر جمه صفحه ۷۸۵ ) حضرت خلیفہ امسیح اول رضی اللہ عنہ کے بیان کرد و مطالب حضرت خلیفتہ امیج اول نے فرمایا ہے کہ شہب ثاقبہ کے نظاروں کو ہر شخص اپنے ذوق اور معرفت کے مطابق دیکھتا ہے۔ہر ایک کا اپنا اپنا زاویہ نگاہ ہے اور یہ بھی کہ کسی گہرائی میں ڈوب کر اُسے