مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 284 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 284

284۔پھر اس کے پاؤں میں بیٹریاں ڈال کر اسے بابل لے گئے۔( آیت ۴ تا ۷ ) بابل کے بادشاہ نے خداوند کا گھر۔بادشاہ کا محل۔ہر رئیس کا مکان بلکہ ہر گھر جلا دیا۔یروشلم کے ارد گرد کی دیواروں کو گرا دیا۔یہودیوں کی مقدس کتا بیں بھی جلا کر راکھ کر دی گئیں۔بائبل کے مٹنے کے بعد حضرت عزیز نے اپنی یادداشت بناء پر دوبارہ لکھا: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ بائبل کی تاریخ کے اس اہم ترین واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: تورات کی اندرونی شہادت سے یہ امر ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ کتاب مٹ گئی تھی اور اس کے مٹنے کا باعث یہ ہوا کہ چھٹی صدی قبل مسیح یعنی چودھویں صدی ابراہیمی کے آخر میں جب بخت نصر نے بیت المقدس کو جلا دیا تو تورات کی مقدس کتا بیں بھی جل گئیں اور یہو دقید ہوکر بابل میں لے جائے گئے جہاں ستر سال تک قید ر ہے۔اس اسیری کے بعد وہ رہا ہوئے اور حضرت عزیر جن کی کتاب پرانے عہد نامہ میں پائی جاتی ہے۔انہوں نے اس کتاب کی تدوین دیگر احبار سمیت کی اور اپنی یادداشت کی بناء پر اسے لکھا۔حضرت عزیر کے نام سے ایک اور کتاب عیز ڈراس (Esdras) یونانی زبان میں موجود ہے جو حضرت عزیر کی اس کتاب کے علاوہ جو پرانے عہد نامہ میں پائی جاتی ہے۔اگر چہ یہ کتاب موجودہ بائبل کی کتابوں میں شامل نہیں مگر بائبل سے کسی درجہ کم معتبر نہیں چنانچہ بائبل کا جو ضمیمہ بعد میں مرتب ہوا ہے اس میں عیز ڈراس کو بھی شامل کر لیا گیا ہے اس کتاب کی دوسری کتاب کے چودھویں باب کو پڑھ کر یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ کس طرح حضرت عزیر نے اپنے پانچ ساتھیوں سمیت چالیس دن تک تو رات کو دوبارہ لکھا۔کتاب مذکور کے چودھویں باب میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ درج ذیل ہے۔لکھا ہے: ”دیکھو اے خدا میں جاؤں گا جیسا تو نے مجھے حکم دیا ہے اور جولوگ موجود ہیں ان کو فہمائش کروں گا۔لیکن جو لوگ کہ بعد کو پیدا ہوں گے ان کو کون