مکتوب آسٹریلیا — Page 151
151 مشہور آدمیوں کے بال چوری ہونے کا خطرہ۔جب سے یہ امکان پیدا ہوا ہے کہ کسی شخص کے بالوں سے اس کا ڈی این اے حاصل کر کے بطریق کلونگ ہو بہو اس شخص کی شکل وصورت کا انسان پیدا کیا جاسکتا ہے (اگر چہ اس کی روح اور اس سے متعلقہ اخلاقی و روحانی استعدادیں مختلف ہوں گی ) بڑے بڑے آدمیوں کے بالوں کی خرید و فروخت کا کاروبار شروع ہو گیا ہے۔آرمسٹرانگ (Armstrong) چاند پر قدم رکھنے والا پہلا شخص تھا وہ امریکہ میں ایک دوکان سے ہر ماہ حجامت بنوایا کرتا تھا۔اس کے بار بر کے پاس ایک ایسا شخص آیا جس کا دھندا دنیا کے بڑے بڑے آدمیوں کے بال جمع کرنا ہے اور اب تک کئی مشہور شخصیات کے بال اکٹھے کر چکا ہے جن میں آئن سٹائن ، ابراہام لنکن ، جان کینیڈی، نپولین اور کنگ چارلس وغیرہ شامل ہیں اس نے بار بر سے آرمسٹرانگ کے بال خریدنے کی پیشکش کی لیکن بار برنے انکار کر دیا۔لیکن جب اس نے بہت اصرار کیا تو وہ تین ہزار ڈالر کے عوض بال بیچنے پر رضا مند ہو گیا۔بار بر نے قیمت وصول کی اور اپنے بل ادا کر دئیے جب آرمسٹرانگ کو اس کا علم ہوا تو اس نے اپنے بال واپس طلب کئے۔جب بار بر نے معذوری ظاہر کی تو اس نے اپنے وکیل کے ذریعہ اس کو دھمکی دے دی آخر معاملہ اس پر ختم ہوا کہ بار بر وہ رقم آرمسٹرانگ کی مرضی کے مطابق خیرات کر دے۔یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔اس طرح کے کئی واقعات ہو چکے ہیں۔ایک گلوکار