مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 131 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 131

131 عمل بھی کرایا جا سکے گا یا نہیں۔قرآن کریم میں پیش گوئی تھی کہ ایک وقت آئے گا کہ بچیوں کے قتل پر مواخذہ ہوگا۔جیسے فرمایا اور جب زندہ گاڑی جانے والی (لڑکی) کے بارہ میں سوال کیا جائے گا ( کہ آخر ) کس گناہ کے بدلہ میں اس کو قتل کیا گیا تھا۔“ (التکویر ۱۰۰۹) چنانچہ جہاں تک ہندوستان کا تعلق ہے وہاں بچیوں کے قتل کو ممنوع قرار دینے کے لئے ۱۹۷۰ء میں حکومت انگریزی نے قانون بنایا تھا جواب تک وہاں جاری ہے لیکن افسوس کہ اس کی خلاف ورزی بدستور جاری ہے۔حکومت ہندوستان کا نیا قانون بھی ایک لحاظ سے اسی کی ذیل میں آتا ہے۔آگے چل کر اخبار مذکور بچیوں کے قتل کا ذمہ دار جہیز کی منحوس رسم کو ٹھہراتا ہے۔وہ لکھتا ہے کہ بچی کو اس لئے بوجھ تصور کیا جاتا ہے کہ اس کو پالنے پوسنے کا فائدہ تو کوئی ہے نہیں الٹا اس کے جہیز پر کثیر رقم خرچ کرنا پڑے گی۔وہاں اکثر یہ کہاوت بیان کی جاتی ہے کہ لڑکی کی پرورش کرنا تو ہمسائے کے باغ کو پانی دینے کے مترادف ہے۔غریب والدین کو اپنی بچی کو جہیز میں بائیسکل، ٹی وی، ریشمی ساڑھی اور سونے کے زیورات لازماً دینے پڑتے ہیں جس کا قرضہ وہ ساری عمر نہیں اتار سکتے۔یہ رقم لڑکے کی تعلیم اور ملازمت وغیرہ کے ساتھ بڑھتی جاتی ہے اور آئی سی ایس افسر کو داماد بنانے کے لئے کم از کم ساٹھ ہزار ڈالر کی رقم جہیز کے لئے درکار ہوگی۔اخباروں میں اشتہار آتے ہیں کہ پیدائش سے پہلے پانچ سو روپیہ خرچ کر کے بچے کی جنس کا پتہ کروالیں اور بعد کے ہزاروں روپے بچائیں۔بعض بچیاں جو اپنے غریب والدین سے سسرال کی خواہش کے مطابق جہیز نہیں لاسکتیں اور بعد میں بھی ان کے مطالبات پورے نہیں کر سکتیں ان کی ساری زندگی جہنم بنادی جاتی ہے۔بلکہ ایک خاصی تعداد کومٹی کا تیل پھینک کر آگ میں جلا دیا جاتا ہے اور بہانہ یہ بنایا جاتا ہے کہ تیل کا چولہا پھٹ گیا تھا۔بے شمار بچیاں ساری عمر شادی کے انتظار میں بوڑھی ہو جاتی ہیں۔بد قسمتی سے جہیز کے مطالبہ کی لعنت ہندوؤں کے زیر اثر پاکستان میں بھی آچکی ہے۔حضرت خلیفۃ اسیح الثالث نے ان رسوم کے خلاف جہاد کا اعلان کیا تھا۔مبارک ہیں وہ جو خلیفہ وقت کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے اس جہاد میں شامل ہوتے ہیں اور کمزور بچیوں اور ان کے والدین کو ان کے دکھوں سے آزاد کرانے کی کوشش کرتے ہیں۔حضرت خلیفہ امسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ