مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 78 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 78

78 اور رستوں کا علم نہیں ہوتا بلکہ یہ لمبا سفر طے کرنے کے لئے ایک طرف تو اپنی جبلت (Instinct) سے کام لیتی ہیں اور دوسری طرف اپنے بڑوں کی رہنمائی سے فائدہ اٹھاتی ہیں۔سائنس دانوں کو معلوم ہوا ہے کہ ان پرندوں کے سروں میں مقناطیسی ذرات Magnetic) (Particles پائے جاتے ہیں جن کا تعلق ایک طرف تو ان کی آنکھوں کے اعصاب (Nerves) ہوتا ہے اور دوسری طرف وہ بطور قطب نما کے کام کرتے ہیں۔رستہ کے نقشہ کو ذہن میں محفوظ کرنے کا تعلق بھی انہیں سے ہوتا ہے۔یہ قطب نما اتنی حساس واقع ہوئی ہے کہ زمینی مقناطیس میں جو تبدیلی مختلف مقامات میں ہوتی ہے یہ اس کو بھی معلوم کر سکتی ہے۔اور اسی ارضی مقناطیس کی تبدیلی سے وہ مختلف مقامات کے درمیان فاصلوں کا اندازہ بھی کر لیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ایسے پرندے بغیر یہ جانے ہوئے کہ کہاں جارہے ہیں شمال کی طرف سفر شروع کر دیتے ہیں اور واپسی پر جنوب کی طرف لیکن یہ کمپاس(Compass) صرف سورج کی روشنی اور زمین کی قدرتی مقناطیس میں کام کرنے کے لئے ہی ڈیزائن کی گئی ہے۔چنانچہ اگر پرندوں کے راستہ میں سرخ روشنی پیدا کر دی جائے یا کوئی بڑا مصنوعی مقناطیس رکھ دیا جائے تو یہ پریشان (Confuse) ہو کر راستہ بھول جاتے ہیں اور ان کا شمال جنوب کا احساس ختم ہو جاتا ہے۔(بحوالہ سڈنی ہیرلڈ ۲۸ جولائی ۱۹۹۷ء) اللہ کی کیا قدرتیں ہیں کہ ہر مخلوق کو اس کے مناسب حال قومی بھی دیئے ہیں اور ان کو استعمال کرنے کے لئے جبلی استعدادیں بھی عطا کی ہیں۔یہ ننھے پرندے سردی گرمی سے اپنی جان کی حفاظت کے لئے اور خدا کی زمین میں اپنا رزق تلاش کرنے کے لئے کتنے دور دراز کے سفر اختیار کرتے ہیں۔خدا نے قرآن کریم میں پرندوں کے پروں کو پھیلانے اور سمیٹنے اور فضا میں اڑنے کو بھی اپنا نشان قرار دیا ہے اور اس پر غور کرنے کا ارشادفرمایا ہے۔(الملک: ۲۰ النحل: ۸۰) علاوہ ازیں سورہ الفیل میں گرمی سردی میں سفروں کو جاری رکھنے کی توفیق ملنے ،خوف سے بچانے اور بھوک میں کھانا عطا کرنے کو بھی اپنا فضل واحسان قرار دیا ہے اور اس پر رب کعبہ کا شکر بجالانے کا حکم دیا ہے۔پس اگر کسی کو رزق کی تلاش میں دور دراز سفر کرنے کی توفیق ملے اور کئی قسم کے