مکتوب آسٹریلیا — Page 77
77 گرمی سردی میں سفر کرنے والے پرندوں کو خدا نے گھڑی مقناطیسی قطب نما اور رستہ کا نقشہ ودیعت کیا ہوتا ہے آسٹریلین جرنل آف زوالوجی میں ایک دلچسپ تحقیق شائع ہوئی ہے جو آسٹریلین ، جرمن اور امریکن سائنس دانوں کی مشترکہ محنت کا ثمر ہے۔اس ٹیم کے سربراہ یو نیورسٹی آف ٹیکنالوجی سڈنی کے Dr۔Ursula Munro تھے۔انہوں نے یہ راز معلوم کیا کہ پرندے گرمی سردی کے لمبے سفر طے کر کے واپس اپنے ٹھکانوں پر کیسے پہنچ جاتے ہیں۔وہ کہتے ہیں یہ حیران کن انکشاف ہوا ہے کہ قدرت نے ان کے ننھے، دماغوں میں بالکل صحیح وقت بتانے والی گھڑی، ایک مقناطیسی قطب نما اور ایک راستے کا مفصل نقشہ ودیعت کر رکھا ہے۔انہوں نے دیکھا کہ وہ ننھے پرندے جو تسمانیہ آسٹریلیا کے علاقہ میں پائے جاتے ہیں جو حجم میں چڑیا سے بھی چھوٹے ہیں اور جن کو وہاں Tasmanian Silvereyes کہا جاتا ہے وہ ہر سردی کے موسم میں تسمانیہ کوئنز لینڈ (Queensland) کے شمال میں اڑ کر پہنچ جاتے ہیں۔تسمانیہ میں بہت سردی پڑتی ہے جب کہ شمالی کوئنز لینڈ گرم علاقہ ہے اور دونوں کے درمیان کوئی چار ہزار کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔یوں یہ چڑیاں جہاں سردی سے اپنی جان بچاتی ہیں وہاں خدا کی وسیع زمین پر اپنا مقدر رزق بھی تلاش کرتی ہیں۔ان پرندوں کو پیدائش کے بعد بال و پر ملتے ہیں تو اس وقت انہیں ان جگہوں