مکتوب آسٹریلیا — Page 76
76 اور اگر کبھی دونوں اکٹھے ہو جائیں تو دونوں صفحہ ہستی سے نابود ہو جائیں گے اور پیچھے ایک ایسی عظیم طاقت رہ جائے گی جس کا اندازہ لگاناکسی سائنس دان کے بس میں نہیں۔کائنات میں ہر چیز جوڑوں کی شکل میں پیدا کی گئی خواہ اس کا تعلق عالم جمادات سے ہو، عالم نباتات سے ہو یا عالم حیوانات سے۔قرآن کریم نے چودہ سو سال قبل یہ عظیم الشان سائنسی انکشاف کر دیا تھا کہ وَمِنْ كُلِّ شَيْءٍ خَلَقْنَا زَوْجَيْنِ لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ “ (الذاریات: ۵۰) کہ ہم نے ہر چیز کے جوڑے بنائے ہیں تا کہ تم نصیحت حاصل کرو۔لہذا جہاں کا ئنات کی ہر چیز جوڑوں کی صورت میں بنائی گئی ہے کیا عجب ہے کہ خود کائنات کا بھی جوڑا ہو۔حقیقت تو یہ ہے کہ جوڑا ہونا مخلوقیت کی دلیل ہے۔سورۃ اخلاص ہمیں یہی بتاتی ہے کہ وہ صرف خدا ہی ہے جو اپنی نوع اور جنس میں اکیلا ہے۔وہی ہے جو اپنی ذات کے لئے کسی سہارے کا محتاج نہیں بلکہ دوسری ہر چیز اپنے وجود میں آنے اور قائم رہنے کے لئے اس کے سہارے کی محتاج ہے۔وہی ہے جو علت العلل ہے۔اس کے سوا ہر چیز اپنے وجود میں آنے کے لئے کسی وجہ (Cause) کی محتاج ہے۔اس کی نوع یا جنس سے نہ اس سے پہلے کوئی تھا اور نہ بعد میں کوئی ہوگا اور حقیقت تو یہی ہے کہ کائنات کی کوئی چیز ایسی نہیں جو حقیقی طور پر اس کی طرح کی اس جیسی یا اس کی ہم پلہ ہو۔ہر مخلوق چیز کا جہاں ایک آغاز ہے وہاں اس کا انجام بھی ہے اور وہ اجل مسمی ( وقت مقررہ ) کے ساتھ بندھی ہوئی ہے۔گو یا وقت اور عمر کے ساتھ بندھے ہونا بھی مخلوق ہونے کی دلیل ہے۔خالق کا اس پہلو سے بھی کوئی کفو نہیں۔وہی ہے جو ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔اس عظیم سورۃ میں مخلوقیت کی کھوٹ سے خدا تعالیٰ کو خالص کر کے دکھایا گیا ہے اور اس کی ایسی تنزیہی صفات کو پیش کیا گیا ہے جنہوں نے خدا کو مخلوقیت کی ہر صفت سے منزہ قرار دے کر اس کی خالص تو حید کو پیش کیا ہے۔فسبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم (الفضل انٹر نیشنل 24۔5۔96)