مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 58 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 58

58 تو انڈونیشیا کے جزائر سے تیر کر آسٹریلیا پہنچے تھے۔پھر شمالی آسٹریلیا سے کئی ہزار میل کا سفر طے کر کے جنوب میں نیو ساؤتھ ویلز کے علاقہ میں پہنچے جہاں ۱۹۰۰ ء میں ان کے تجر ڈھانچے (Fossils) دستیاب ہوئے تھے۔البتہ بعد میں ان کا وجود یہاں نا پید ہو گیا۔۱۹۷ء میں قطب جنوبی (Antarctic) کے پنگوئن کا ایک انڈہ صحیح حالت میں آسٹریلیا کے ساحل پر ملا تھا جو دو ہزار کلومیٹر کا سمندری سفر کر کے یہاں پہنچا تھا۔پروفیسر آرچر اپنے ایک حالیہ مضمون میں لکھتے ہیں کہ ۴۵ تا ۳۵ ملین سال پہلے جب آسٹریلیا اور قطب جنوبی پھٹ کر علیحدہ ہوئے تھے اس وقت آسٹریلیا ہر طرف سے ایسے سمندر میں گھرا ہوا تھا جن میں کروڑوں قسم کی انواع بھری پڑی تھیں اور ان میں سے بہت سی نئی بستیوں کی تلاش میں آسٹر یلیا آگئی تھیں۔ہم یہ کبھی نہ جان سکیں گے کہ ان میں سے کتنی انواع اس کٹھن سفر میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھیں اور کتنی یہاں تک پہنچنے میں کامیاب ہوئیں۔( سڈنی مارٹنگ ہیرلڈ ۹ را کتوبر ۶۹۸) جنگلوں کے جانور اور فضاؤں کے پرندے جب چاہیں اور جہاں چاہیں خدا کی زمین میں دانا دنکا چگنے کے لئے اور نئی بستیاں آباد کرنے کے لئے جاسکتے ہیں۔ان کو موج ہے کسی ویزے کی ضرورت نہیں۔یہ مشکل انسانوں ہی کو کچھ عرصہ سے ہے۔(الفضل انٹر نیشنل 9۔4۔99)