مکتوب آسٹریلیا — Page 56
56 موجود ہوتے ہیں گویا (فَالهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقُوهَا ) (الشمس: 9) کا ایک عمل پیدائش سے بھی پہلے شروع ہو جاتا ہے اور اچھے برے دونوں رجحانات اس کے اندر رکھ دیئے جاتے ہیں تاوہ کشمکش اور جدو جہد کے نتیجہ میں ترقی کر سکے۔اللہ تو اس سے پاک ہے کہ وہ فسق و فجور کے خیالات دل میں ڈالے یا میلانات طبیعت میں رکھے لیکن چونکہ اچھے برے نتائج اسی کے قانون کے تحت نکلتے ہیں اس لئے اچھے اور برے دونوں رجحانات کا طبیعت میں ڈالے جانا خدا کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔اس کا دوسرا عمل اس وقت ہوتا ہے جب انسان خود اپنے دل سے اچھے برے کا فیصلہ کرنے کا اہل ہو جاتا ہے اور گناہ اس کے سینے میں کھٹکنے لگ جاتا ہے۔اس کا تیسرا عمل اس ہدایت کے ذریعہ ہوتا ہے جو انبیا ءلاتے ہیں اور انسانوں پر فسق و فجور اور نیکی و تقویٰ کی راہوں کو واضح کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو وہ سب کمزوریوں کی دعا و استغفار اور تدبیر ومجاہدہ کے نتیجہ میں پردہ پوشی کر دیا کرتا ہے۔اگر ایسا ممکن نہ ہوتا اور انسان اپنے پیدائشی رجحانات پر عمل کرنے پر مجبور ہوتا تو اللہ پر الزام آتا کہ جب اس نے خود ہی گناہ پر پابند کر دیا ہے تو سزا کیسی اور ایسے ہی نیک رجحان کے تحت نیکی کرنے کا ثواب کیسا؟ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: غرض بے اعتدالیوں اور بدیوں کی طرف جانا انسان کی ایک حالت ہے جو اخلاقی حالت سے پہلے اس پر طبعا غالب ہوتی ہے اور یہ حالت اس وقت تک طبعی کہلاتی ہے جب تک انسان عقل اور معرفت کے زیر سایہ نہیں چلتا بلکہ چارپایوں کی طرح کھانے پینے ،سونے جاگنے یا غصہ اور جوش دکھلانے وغیرہ امور میں طبعی جذبات کا پیرور ہتا ہے۔“ (اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ ۳) الغرض اچھے برے دونوں رجحانات انسان کی طبعی حالت اور متوازن فطرت کا خاصہ ہیں اور پیدائش سے پہلے ہی خراب رجحانات کا اندازہ کر کے بچے کا قتل مناسب نہیں۔واللہ اعلم بالصواب (الفضل انٹر نیشنل 18۔7۔97)