مکتوب آسٹریلیا — Page 34
34 جاتا ہے اور یہ گرمی اور دباؤ میں خوش رہتے ہیں اور ہزاروں بلکہ کروڑوں سال تک خوابیدہ حالت (Frozen and Dormant) میں زندہ رہ سکتے ہیں۔ان جراثیم میں یہ صلاحیت ہے کہ یہ پتھروں کے اندر چھپ کر ہزاروں سال کا سفر کر کے شدید گرمی اور دباؤ کے باوجود زندہ سلامت ایک کرہ سے دوسرے کرہ تک پہنچ جائیں اور یہی بیکٹیریا غالباً ان بیکٹیریا کے آباء واجداد ہونگے جن سے زمین کے گرم جو ہڑوں میں زندگی کا آغاز ہوا تھا۔ماخوذ ہیرلڈا امارچ ۱۹۹۶ء ، ۲ جون تا۴ جولائی ۱۹۹۶ء) سوچ اور تجربہ کے نتیجہ میں مختلف نظریات وجود میں آتے رہتے ہیں اس لئے اصل حقیقت کو خدا ہی جانتا ہے۔پروفیسر پال ڈیویز (Paul Davies) کے نظریہ کے دو حصے ہیں ایک تو یہ کہ زمین پر انسان سے پہلے ایک ایسی آنکھوں سے اوجھل مخلوق بستی تھی جو گرم ابلتے پانی میں بھی نہ صرف زندہ رہتی تھی بلکہ خوب نشو ونما پاتی تھی۔دوسرا حصہ یہ ہے کہ زندگی کا تبادلہ ایک کرہ سے دوسرے کرہ میں کثرت سے ہوتا رہا ہے اور غالبا اب بھی ہو رہا ہے اور اس حقیقت سے عظیم نتائج ظہور میں آسکتے ہیں۔قرآن کریم اس سلسلہ میں غور و فکر کرنے والوں کی یوں راہنمائی فرماتا ہے۔اور انسان کو ہم نے آواز دینے والی مٹی سے یعنی سیاہ گارے سے جس کی ہیت تبدیل ہوگئی تھی پیدا کیا ہے اور اس سے پہلے جنوں کو ہم نے سخت گرم ہوا کی (قسم کی) آگ سے پیدا کیا تھا“ (الحجر: ۲۸،۲۷) پھر فرمایا' اور آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور جو کچھ ان دونوں کے درمیان جانداروں کی قسم سے اس نے پھیلا دیا ہے اس کے نشانوں میں سے ہے اور جب وہ چاہے گا ان سب کے جمع کرنے پر قادر ہوگا“ (الشوری:۳۰) ( الفضل انٹر نیشنل 28۔6۔96)