مکتوب آسٹریلیا — Page 31
31 مذکورہ بالا رپورٹ Tianjin کے نفسیاتی امراض کے چیف ریسرچر Mr Geng Zhjying نے تیار کی ہے۔غالبا وہ خود بھی اور ان کے زیر مشاہدہ مریض بھی کمیونسٹ اور دہر یہ ہیں اس لئے انہوں نے اپنی رپورٹ میں اس امر کا جائزہ نہیں لیا کہ قریب وفات کی کیفیات پر مذہب عقائد اور تعلق باللہ کیا اثر ڈالتے ہیں۔یہاں پہنچ کر بالطبع اپنے سب سے زیادہ پیارے آقا حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری لمحات کی طرف توجہ پھرتی ہے جن کو ان کے ایک عاشق صادق نے یوں بیان فرمایا ہے : ”جب موت قریب ہوتو اس وقت تو اکثر آدمی اپنے مشاغل کو یاد کر کے افسوس کرتے ہیں کہ اگر اور کچھ دن زندگی ہوتی تو فلاں کام بھی کر لیتے اور فلاں کام بھی کر لیتے۔جوانی میں اس قدر حرص نہیں ہوتی جس قدر بڑھاپے میں ہو جاتی ہے اور یہی خیال دامنگیر ہو جاتا ہے کہ اب بچوں کے بچے دیکھیں اور پھر ان کی شادیاں دیکھیں اور جب موت قریب آتی ہے تو اور بھی توجہ ہو جاتی ہے۔اور بہت سے لوگوں کا بستر مرگ دیکھا گیا ہے کہ حسرت واندوہ کا مظہر اور رنج وغم کا مقام ہوتا ہے اور اگر “ اور ” کاش‘ کا اعادہ اس کثرت سے کیا جاتا ہے کہ عمر بھر اس کی نظیر نہیں ملتی۔میرا آقا جہاں اور ہزاروں باتوں میں دوسرے انسانوں سے اعلیٰ اور مختلف ہے وہاں اس بات میں بھی دوسروں سے بالا تر ہے۔اس میرے سردار کی موت کا واقعہ کوئی معمولی سا واقعہ نہیں۔کس گمنامی کی حالت سے ترقی پاکر اس نے اس عظیم الشان حالت کو حاصل کیا تھا اور کس طرح خدا تعالیٰ نے اسے ہر دشمن پر فتح دی تھی اور ہر میدان میں غالب کیا تھا۔ایک بہت بڑی حکومت کا مالک اور بادشاہ تھا اور ہزاروں قسم کے انتظامات اس کے زیر نظر تھے۔لیکن اپنی وفات کے وقت اسے ان چیزوں میں سے ایک کا بھی خیال نہیں۔نہ وہ آئندہ کی فکر کرتا ہے نہ تدابیر ملکی کے متعلق وصیت کرتا ہے نہ اپنے رشتہ داروں کے متعلق ہدایت لکھواتا ہے بلکہ اس کی زبان پر اگر کوئی فقرہ جاری ہے تو یہی کہ اللـهـم فـي الرفيق الاعلى ـ اللهم