مکتوب آسٹریلیا — Page 27
27 کے رحم وکرم پر تھا۔بعد میں واقعات نے کچھ ایسا پلٹا کھایا کہ کمیونزم چین میں غالب آگیا۔دوسری رؤیا مجھے ۱۹۴۶ء کے وسط کے قریب دکھائی گئی تھی اور بڑی وضاحت سے روز نامہ الفضل میں ۲۳ را گست ۱۹۴۶ء کو شائع ہوئی تھی۔مختصر یہ کہ میں نے ایک پہاڑ دیکھا جس میں تین محرا ہیں تھیں۔روس درمیانی محراب میں کھڑا تھا۔امریکہ جنوبی طرف واقع محراب میں اور انگلستان مغربی طرف کی محراب میں۔لگتا تھا ان کے درمیان کوئی تنازعہ ہوا ہے جس کے دوران امریکہ اور انگلستان روس کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکے۔انگلستان نے مجھے اشارہ کیا کہ میں اس کی مدد کروں۔چنانچہ میں نے روس پر فائز کئے لیکن کوئی نتیجہ نہ نکلا۔تب روس محراب سے باہر نکلا اور دوڑ پڑا۔میں اس کے پیچھے دوڑا اور اسے جالیا۔اس نے میری طرف رخ پھیرا اور کہا کہ تم بے شک مجھ پر فائرنگ کئے جاؤ لیکن ایک وقت مقرر ہے۔پہلے میں تباہ نہیں کیا جاسکتا۔میں نے اس پر کئی بار فائر کئے اور اگر چہ چھرے اس کے جسم میں غائب ہوتے گئے لیکن اس کو کوئی زخم نہ آیا اور چلا گیا۔اس تعلق میں میں نے اور بھی کئی رؤیا دیکھے ہیں جو گزشتہ چالیس سال کے دوران چھپتے رہے ہیں۔وہ ظاہر کرتے ہیں کہ شروع میں روس کے خلاف کچھ بھی کارگر نہ ہوگا لیکن آخر کار میری اور میری جماعت کی دعاؤں کی وجہ سے خدا اسے تباہ کر دے گا۔ان سب کشوف کا مطلب یہی ہے کہ کمیونزم کی تباہی خدا کے ہاتھوں مقدر ہے لیکن ایساز مینی اسباب سے نہیں بلکہ روحانی ذرائع سے ہوگا۔اس لئے ضروری ہے کہ امریکہ اور مغرب کے لوگ خدا کی آواز پر کان دھریں اور اپنے اندر ایک روحانی انقلاب پیدا کرنے کی کوشش کریں۔(Cammunism & Democracy by Hazrat Mirza Bashiruddin Mahmood Ahmad P: 1-3)