مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 295 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 295

295 ہے ظاہر ہے کہ الہامی زبان میں خاندانی یا مذہبی نظام کو نظام شمسی سے مشابہت دی جاتی ہے اور مرے نزدیک آیت زیر بحث ( الحجر اے ) میں بھی یہی معنے مراد (ایضاً صفحه ۱۳) ہیں۔اگر ان آیات میں بجائے ظاہری نظام کے روحانی مذہبی نظام مرا دلیا جائے اور اس حقیقت کو پیش نظر رکھا جائے کہ جب تک خدا کا پیغام نبی کے ذریعہ بندوں تک نہ پہنچ جائے وہ فرشتوں کی حفاظت میں ہوتا ہے اور بعد میں شیاطین الانس اُسے اُچکنے کا کام کرتے ہیں تو ان کی کوششوں کو نا کام بنانے والے بھی خدا کے نیک بندے مرسل۔مامور مصلح اور علماء ربانی ہوتے ہیں۔حضور فرماتے ہیں: اس آیت میں کلام چرا لینے (استراق السمع۔ناقل ) سے مراد یہ ہے کہ جس طرح چور ناحق دوسرے کے مال کو لیتا ہے اسی طرح وہ کلام الہی کو ناحق لیتے ہیں۔یعنی اس کے معنوں کو سمجھ کر ایمان نہیں لاتے تا اس کا ناجائز استعمال کریں اور اس کے غلط معنے کر کے لوگوں کو گمراہ کریں“ آیات مذکورہ کا خلاصہ (ایضاً صفحه ۲۳) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: خلاصہ یہ کہ ان آیات میں کلام الہی کی حفاظت کا ذکر ہے۔اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ نبی پر کلام نازل ہونے تک کوئی اُسے معلوم نہیں کرسکتا۔جب وہ نازل ہو جاتا ہے تو پھر شیاطین الانس والجن اسے مختلف ذرائع سے اچک کر اُس میں جھوٹ ملا کر لوگوں میں پھیلاتے ہیں اور نبی کے خلاف انہیں اُکساتے ہیں۔۔کوئی صحیح حوالہ لیا اس کے غلط معنے کئے یا ایک ٹکڑالیا اور سیاق وسباق سے الگ کر کے اس کے مضمون سے لوگوں کو جوش دلایا۔یہ نبیوں کے