مکتوب آسٹریلیا — Page 280
280 حضرت عزیر کو ابن اللہ کہنے کا ذکر قرآن کریم کی اس آیت میں ملتا ہے: ”اور یہود نے کہا کہ عزیر اللہ کا بیٹا ہے اور نصاری نے کہا کہ مسیح اللہ کا بیٹا ہے۔یہ محض ان کے منہ کی باتیں ہیں۔یہ ان لوگوں کے قول کی نقل کر رہے ہیں جنہوں نے (ان سے پہلے ) کفر کیا تھا۔اللہ انہیں نابود کرے یہ کہاں الٹے پھرائے جاتے ہیں“ (التوبہ:۳۰) اس آیت میں یہ پیشگوئی مضمر ہے کہ جس طرح عزیز کو ابن اللہ کہنے والے نابود ہو چکے ہیں اسی طرح یہ بھی مقدر ہے کہ علینے کو ابن اللہ کہنے والے بھی نہیں رہیں گے وہ بھی اس عقیدہ کو انہیں کی طرح بیزار ہو کر ترک کر دیں گے۔چونکہ آج کل یہود عزیر کو ابن اللہ نہیں کہتے اس لئے بعض معترضین اسلام کہتے ہیں کہ قرآن نے ایک خلاف حقیقت بات کہہ دی ہے۔اس اعتراض کا جو جواب حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل اور حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے دیا ہے وہ درج ذیل ہے: حضرت خلیفتہ اسیح اوّل فر ماتے ہیں: وو دنیا میں کئی مذاہب آتے ہیں پھر مٹتے ہیں۔ایک فرقہ تھا یہود سے وہ حضرموت ( غربی کنارہ یمن ) میں رہتا تھا وہ عزیر کو ابن اللہ کہتے تھے ہجری چوتھی صدی تک ان کا بقایا رہا ہے پس یہ اعتراض نہیں چاہئے کہ اب تو یہود نہیں کہتے عزیز ابن اللہ تھے کیونکہ دنیا میں ایسا ہوتا آیا ہے۔دیکھو قسطلانی داؤد ظاہری۔لیٹ کے متبعین اب نہیں پائے جاتے مگر کتا ہوں میں ان کا ذکر ہے۔( نوٹس درس القرآن فرمودہ حضرت خلیفتہ مسیح اول۔مطبوعہ قادیان اکتو برا۲۳۹۔صفحه۳۶۲) حضرت خلیفتہ اسیح الثانی فرماتے ہیں: عزیز یا عزرا ( Ezra) پانچویں صدی قبل مسیح میں گزرے ہیں۔آپ سیرائیاہ ( Sraiah) کی نسل میں سے تھے جو اپنے وقت کے بڑے دینی پیشوا (High Priest) تھے۔آپ خود بھی دینی پیشوائی سلسلہ کے رکن تھے اور بطور ”دینی پیشوا عزرا (Era ,the priest) کے جانے جاتے