مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 279 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 279

279 حضرت عزیر علیہ السلام یہود کا ایک فرقہ عزیر کو ابن اللہ مانتا تھا حضرت عزیر علیہ السلام کو یہود میں ان کی خدمات کے سبب ایک خصوصی مقام حاصل تھا اور ان کے اس حد تک معتقد تھے کہ ان کے ایک فرقہ نے انہیں خدا کا بیٹا کہنا شروع کر دیا تھا۔بنی اسرائیل اپنے خاص مذہبی محاورہ میں ہر اس شخص کو استعارةُ ابن اللہ کہہ دیا کرتے تھے جو ان کے نزدیک خدا کو ایسا پیارا ہوتا جیسے ایک باپ کو اسکا بیٹا ہوتا ہے اور جو خدا کی صفات اور قدرت کا مظہر ہوتا چنانچہ ان معنوں میں بائیل میں اسرائیل۔افرائیم۔داؤد سلیمان۔آدم اور عیسی علہیم السلام کو ابن اللہ کہا گیا ہے (دیکھیں 27 Exodus 4:23, Jeremiah 31:39 Psalms) I۔Chronicles 22:10, Luke 3:38, John 3:16, Romans 8:41, IJohn 5:1) قرائن سے پتہ لگتا ہے کہ یہود اسی مروجہ اصطلاح میں حضرت عزیر کو بھی استعارة ابن اللہ کہتے ہوں گے مگر رفتہ رفتہ (عیسائیوں کی طرح) ان کے ایک حصہ نے ان کو حقیقی معنوں میں ابن اللہ کہنا شروع کر دیا۔مگر جس طرح مذہب۔فرقے بنتے مٹتے رہتے ہیں یہ فرقہ بھی مرور زمانہ سے مٹ گیا اور آج یہودیوں میں سے کوئی انہیں خدا کا بیٹا نہیں مانتا۔