مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 16 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 16

16 یہ اصول صرف مادی لذات پر لاگو نہیں ہو تا روحانی امور میں بھی لذت اسی کو ملتی ہے جو شعوری طور پر محنت سے اسے حاصل کرنا چاہتا ہے۔دعاؤں اور نمازوں کا مزہ بھی پیدا کر نا پڑ تا ہے اسی طرح جس طرح مادی کھانوں کا مزہ (Taste) پیدا کیا جاتا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ایک بار ذکر فرمایا کہ افریقہ کے دورہ کے دوران ایک لذیذ میٹھی ڈش آپ نے بنوائی اور افریقن دوستوں کو پیش کی تو وہ ایک لقمہ لے کر ہی ہٹ گئے۔حضور کے استفسار پر انہوں نے بتایا کہ حضور ہم چونکہ میٹھی ڈش نہیں کھاتے اس لئے ہم کو مزہ نہیں آتا۔اب پتہ نہیں وہ ڈش کتنی لذیذ ہوگی لیکن جس نے کبھی وہ کھائی ہی نہیں اس کو کیا مزہ آتا اسی طرح نماز کا مزہ بھی متواتر کوشش اور دعا سے حاصل کرنا پڑتا ہے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: یا درکھو انسان کے اندر ایک بڑا چشمہ لذت کا ہے۔جب کوئی گناہ اس سے سرزد ہوتا ہے تو وہ چشمہ لذت مکدر ہو جاتا ہے اور پھر لذت نہیں رہتی۔مثلا جب ناحق گالی دیتا ہے یا ادنی ادنی سی بات پر بد مزاج ہوکر بدزبانی کرتا ہے تو پھر ذوق نماز جاتا رہتا ہے۔اخلاقی قومی کو لذت میں بہت بڑا دخل ہے جب انسانی قوی میں فرق آئے گا تو اس کے ساتھ ہی لذت میں بھی فرق آجاوے گا۔پس جب کبھی ایسی حالت ہو کہ انس اور ذوق جونماز میں آتا تھا وہ جاتا رہا ہے تو چاہیئے کہ تھک نہ جاوے اور بے حوصلہ ہوکر ہمت نہ ہارے بلکہ بڑی مستعدی کے ساتھ اس گمشدہ متاع کو حاصل کرنے کی فکر کرے۔اور اس کا علاج ہے تو بہ استغفار۔تضرع۔بے ذوقی سے ترک نماز نہ کرے بلکہ نماز کی اور کثرت کرے جیسے ایک نشہ باز کو جب نشہ نہیں آتا تو وہ نشہ کو چھوڑ نہیں دیتا بلکہ جام پر جام پیتا جاتا ہے یہاں تک کہ آخر اس کو لذت اور سرور آجاتا ہے۔پس جس کو نماز میں بے ذوقی پیدا ہو اس کو کثرت کے ساتھ نماز پڑھنی چاہیئے اور تھکنا مناسب نہیں۔آخر اسی بے ذوقی میں ایک ذوق پیدا ہو جاوے گا۔دیکھو پانی کے لئے کس قدر زمین کو کھودنا پڑتا ہے۔جب لوگ تھک جاتے ہیں وہ محروم رہ جاتے ہیں۔جو تھکتے نہیں وہ آخر نکال ہی لیتے ہیں۔اس لئے اس ذوق کو حاصل