مکتوب آسٹریلیا — Page 171
171 بات درست ہے اور کیا غلط۔وہ کیا کریں، کیا نہ کریں اور عمر اور سمجھ کے لحاظ سے کس چیز یا مقام کا حصول ان کے لئے مناسب ہے وغیرہ وغیرہ لیکن اب اس کی بجائے والدین بچوں سے غیر حقیقی توقعات وابستہ کرتے ہوئے کہتے ہیں تم یہ کر سکتے ہو۔مجھے پتہ ہے تم کر سکتے ہو اور بچوں کی طرف سے جذباتی جواب یہ ہوتا ہے میں اسے کیوں نہیں کر سکتا یا کرسکتی ، میں یہ حاصل کرنا چاہتا ہوں یا کرنا چاہتی ہوں“۔مغربی معاشرہ میں سن بلوغت کے اثمار ووٹ کا حق ، الکوحل خریدنے کا حق اور ڈرائیونگ Licence کے حصول کا حق تصور کئے جاتے ہیں۔لیکن عصر حاضر کے معاشرہ میں یہ حدود مسلسل تبدیل ہو رہی ہیں۔بچوں سے غیر حقیقی اور غیر طبعی تو قعات وابستہ کی جاتی ہیں۔چودہ سال کی سپر ماڈل لڑکی ، تیرہ سال کا اولمپک تیراک اور اگر جیسی کا زندہ رہتی تو سات سال کی پائلٹ لڑکی وغیرہ بچوں کو کہا جاتا ہے کہ زندگی کا مزا ہی کیا ہے۔اگر پندرہ سال تک تم مقصد زندگی حاصل نہ کر سکو۔معاشرہ کی طرف سے بچوں پر الگ دباؤ ہیں۔نوجوانوں کی بریکاری کا خوف، کم سے کم عمر میں زیادہ سے زیادہ کاموں میں مہارت حاصل کرنے کا فکر ، چھوٹی سے چھوٹی عمر میں پڑھائی کا آغاز سکول میں ہوتے ہوئے یو نیورسٹی کورسز میں داخلہ، نئے سے نئے کمپیوٹر کو استعمال کرنے کا مقابلہ، بچوں کے لئے لڑائی بھڑائی قتل وغارت اور سیکس پربنی فلمیں ، ویڈیو، رسالے اور کمپیوٹ کے پروگرام وغیرہ مضمون نگار آخر پر کھتی ہیں کہ آج کے بچوں کے والدین اور بڑوں کے لئے یہ بھاری چیلنج ہے کہ وہ بچوں کے حق انتخاب (Freedom of Choice) اور ذمہ دارانہ افعال (Responsible) (Action) کے درمیان نازک توازن قائم کریں۔یہ مضمون خیال افروز ہے بالخصوص ایک ایسی جماعت کے لئے جو دنیا کی اصلاح کے لئے کھڑی کی گئی ہو۔اسلام میں والدین کو بچوں کا امین اور محافظ ونگران مقرر کیا گیا ہے۔جہاں اولاد کے احترام اور چھوٹوں پر شفقت کی تلقین کی گئی ہے وہاں اساتذہ اور بڑوں کے حقوق بھی قائم کئے گئے ہیں اسلام میں نیکی کی تلقین اور برائی سے روکنا معاشرہ کی بہتری کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے اور اسے شخصی آزادی کے منافی نہیں سمجھا جاتا۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ موجودہ کلچر کے ایسے اجزاء جو قرآنی تعلیم کے مخالف ہیں انہیں بار بار اپنی نظر کے سامنے لاتے رہیں اور اس سے مجتنب رہنے کی کوشش کرتے رہیں۔آمین (الفضل اند نیشنل)