مکتوب آسٹریلیا — Page 96
96 حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ان باتوں کے بیان کرنے سے میرا یہ مطلب ہے کہ جب تک دعا کرنے والے اور کرانے والے میں ایک تعلق نہ ہو متاثر نہیں ہوتی۔غرض جب تک اضطرار کی حالت پیدا نہ ہواور دعا کرنے والے کا قلق دعا کرانے والے کا قلق نہ ہو جائے کچھ اثر نہیں کرتی۔بعض اوقات یہی مصیبت آتی ہے کہ لوگ دعا کرانے کے آداب سے واقف نہیں ہوتے اور دعا کا کوئی بین فائدہ محسوس نہ کر کے خدائے تعالیٰ پر بدظن ہو جاتے ہیں اور اپنی حالت کو قابل رحم بنا لیتے ہیں بالآخر میں کہتا ہوں کہ خود دعا کرو یا دعا کراؤ پاکیزگی اور طہارت پیدا کرو۔استقامت چاہو اور تو بہ کے ساتھ گر جاؤ۔کیونکہ یہی استقامت ہے اس وقت دعا میں قبولیت نماز میں لذت پیدا ہوگی۔ذالک فـضـل الـلـه يوتيه من ( ملفوظات جلد ۹ صفحه ۲۴) ( الفضل انٹر نیشنل 10۔1۔97 ) يشاء“۔