مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 403 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 403

403 کب آئے گا مگر ایسا وقت ضرور آنے والا ہے۔یہ اس کے آگے ایک کرشمہء قدرت ہے وہ چاہے پھر خلق جدید کر سکتا ہے۔(ملفوظات جلد ۹ صفحه ۱۹۳) پھر حضور فرماتے ہیں: پس خدا تعالیٰ کی صفات قدیمہ کے لحاظ سے مخلوق کا وجود نوعی طور پر قدیم ماننا پڑتا ہے نہ شخصی طور پر یعنی مخلوق کی نوع قدیم سے چلی آتی ہے۔ایک نوع کے بعد دوسری نوع خدا پیدا کرتا چلا آیا ہے سواسی طرح ہم ایمان رکھتے ہیں اور یہی قرآن کریم نے ہمیں سکھایا ہے۔اور ہم نہیں جانتے کہ انسان سے پہلے کیا کیا خدا نے بنایا مگر اسقدر ہم جانتے ہیں کہ خدا کی تمام صفات کبھی ہمیشہ کے لئے معطل نہیں ہوئیں اور خدا تعالیٰ کی قدیم صفات پر نظر کر کے مخلوق کے لئے قدامت نوعی ضروری ہے مگر قدامت شخصی ضروری نہیں۔“ 66 چشمه معرفت صفحه ۱۶۸-۱۶۹) پھر حضور فرماتے ہیں: اگر چہ اسلام بھی مخلوق کی نوعی قدامت کا قائل ہے مگر اسلام کا یہ عقیدہ ہے کہ ہر ایک چیز مخلوق ہے اور ہر ایک چیز خدا کے سہارے سے قائم اور موجود ہے اور نیز اسلام اس بات کا قائل ہے کہ ایک وہ زمانہ تھا جو خدا کے ساتھ کوئی نہ تھا اور صرف وحدت اپنا جلوہ دکھلا رہی تھی کہ خدا ایک پوشیدہ خزانے کی طرح تھا۔پھر خدا نے چاہا کہ میں شناخت کیا جاؤں تو اس نے اپنی شناخت کے لئے انسان کو پیدا کیا مگر ہم نہیں جانتے کہ کتنی دفعہ وحدت الہی کا زمانہ آپکا ہے۔اس کا علم خدا کو ہے۔لیکن جیسا کہ دوسری صفات ہمیشہ کے لئے معطل نہیں رہ سکتیں ایسا ہی وحدت الہی کی صفت بھی ہمیشہ معطل نہیں رہتی اور کبھی کبھی اس کا دور آ جاتا ہے۔اور کبھی ذات الہی دنیا کو ہلاک کرنا چاہتی ہے اور کبھی پیدا کرنا کیونکہ احیاء اور امانت دونوں صفات اس کے ہیں۔اس لئے ایک زمانہ ایسا