مکتوب آسٹریلیا — Page 371
371 اور دونوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں۔(۷) آئن سٹائن نے کہا کہ وقت کوئی مطلق (Absolute) چیز نہیں۔اگر کوئی کلاک تیزی سے حرکت کر رہا ہو تو اس کے ساتھ وقت بھی بدل جاتا ہے۔ان کے نظریہ اضافت کے مطابق ایسا کلاک جو تیزی سے حرکت کر رہا ہو اس کا وقت ایک ساکن کلاک کی نسبت آہستہ گزرتا نظر آتا ہے۔۱۹۳۸ء میں ایک سائنسدان H۔E۔Ives نے اس نظریہ پر تجربات کئے اور اسے درست پایا (اگر اس جہان کا وقت بھی مطلق نہیں تو فرشتوں وغیرہ روحانی وجودوں اور حیات اخروی کے وقت کے پیمانوں کو انسان کیسے سمجھ سکتا ہے (خالد) اللہ نے ہر چیز کو لاجل مسمی یعنی ایک مقررہ مدت تک قائم رہنے کے لئے بنایا ہے اور اس نے پیدائش کے وقت ہی سے اس کی عمر کی حد اس کے اندر گو یا لکھ چھوڑی ہے۔کائنات جن ایٹموں سے مل کر بنی ہے اس کے جزو پروٹون تک کی عمر سائنسدانوں نے معلوم کر لی ہے۔جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اس مادی کائنات کی کوئی بھی چیز نہ ہمیشہ سے ہے اور نہ ہمیشہ رہے گی۔جب کوئی شے اپنی مدت حیات پوری کر لیتی ہے۔تو وہ ٹوٹ پھوٹ کر اپنے مرکز اصلی کی طرف لوٹ جاتی ہے۔کسی شے کا اپنی صفات سے محروم ہونا ہی اس کی موت ہے اور جب اس کے اجزاء ایک نئی ترکیب اور نئی صفات کے ساتھ ظہور کرتے ہیں تو وہ ایک دوسری نوع کی پیدائش کہلاتی ہے اور خدا ہمیشہ سے ایسے ہی ایک نوع کے بعد دوسری نوع پیدا کرتا چلا آیا ہے تا اس کی صفت خلق ظہور کرتی رہے لیکن مخلوق کی کوئی نوع بھی خدا کی طرح ازلی ابدی نہیں ورنہ وہ خدائی صفات میں شریک ہو جائے۔چونکہ کائنات میں کوئی شے بھی ایسے نہیں جو کسی مدت حیات کی پابند نہ ہو اس کے لئے کائنات اور اس میں موجود ہر شے مخلوق ہے اور اپنے وجود میں اور قیام کے لئے ایک حی و قیوم ہستی کی محتاج ہے۔وقت ہر مخلوق کی صفت اور کمزوری ہے جس سے خالق خود پاک ہے۔وقت کا گھن ایسا ہے جو ہر چیز کو چاٹ جاتا ہے۔غالب کا اشارہ شاید اسی طرف تھا جب اس نے کہا تھا: ہ میری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی وقت روح و مادہ کی طرح خدا کی مخلوق اور اس کی تقدیر مبرم کا حصہ ہے۔یہ وہ دھارا ہے جس کے ساتھ ہے بنا چارہ نہیں لہذا اس کو کو سنا اور برا بھلا کہنا بھی مناسب نہیں۔ہاں اس