مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 340 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 340

340 بیت اقصیٰ کے صحن کے اوپر ہی ہوا کرتی تھیں۔جب ان دونوں نے عبادت کر لی تو حضرت صاحب نے چوہدری محمد خان کو مخاطب کر کے فرمایا کہ کیا آپ کے ہاں میرے اشتہار پہنچ گئے ہیں۔انہوں نے عرض کیا کہ نہیں جس پر حضرت صاحب نے فرمایا کہ میرے اشتہار تو دور دراز کے جزیروں میں پہنچ چکے ہیں آپ کا گاؤں کتنی دور ہے۔چوہدری صاحب نے عرض کیا کہ یہی کوئی چارکوس کے فاصلہ پر ہے۔تو حضرت صاحب نے فرمایا کہ اچھا میرے ساتھ چلو میں آپ کو اشتہار دیتا ہوں چنانچہ آپ ان دونوں کو ساتھ لے کر اپنے گھر (الدار۔۔۔) میں لے آئے۔بیت المبارک کے ساتھ والے کمرہ میں صف بچھی ہوئی تھی اور اس پر کتابوں کا ڈھیر لگا ہوا تھا۔حضرت صاحب نے کمرہ کی الماری کھول کر فرمایا کہ تمہارے گاؤں میں جتنے پڑھے لکھے ہوئے ہیں اتنے اشتہار لے لو۔چوہدری صاحب کہا کرتے تھے کہ ہمارے گاؤں میں پڑھے لکھے تو دو تین ہی تھے لیکن میں نے پندرہ اشتہار اٹھالئے اور واپس اپنے گاؤں آگیا۔ان کے والد چوہدری ملنگ خان گاؤں کے نمبر دار اور معزز زمیندار تھے۔رواج کے مطابق شام کو کام کاج سے فارغ ہو کر لوگ ان کے ہاں آکر بیٹھا کرتے تھے۔چوہدری محمد خان نے اپنے والد صاحب کو کہا کہ مجھے مرزا صاحب نے یہ اشتہار دیے ہیں۔میں آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں چنانچہ ایک آدمی کو پکڑا اور چوہدری صاحب نے اپنے والد اور موجود حاضرین کو وہ اشتہار پڑھ کر سنایا جسے سن کر ان کے والد صاحب خاموش رہے اور کسی مخالف یا موافق رد عمل کا اظہار نہ کیا۔موضع گل منبج سے کوئی چار کوس کے فاصلہ پر ہی سیکھواں نامی گاؤں تھا جہاں حضرت میاں جمال دین۔حضرت میاں خیر دین اور حضرت میاں امام دین رہا کرتے تھے ( حضرت مولانا جلال الدین شمس کے والد۔تایا اور چاچا) چوہدری صاحب کی ان سے واقفیت تھی اور بٹالہ میں ان سے کئی بارمل چکے تھے اور ان کی زبانی معلوم ہو چکا تھا کہ وہ احمدی ہو چکے ہوئے ہیں حضرت صاحب کی ملاقات اور اشتہار نے چوہدری محمد خان کے دل پر ایسا اثر کیا کہ وہ اگلی ہی صبح سیکھواں میاں صاحبان کے پاس پہنچ گئے۔یہ تینوں بھائی بہت مخلص احمدی تھے ( حضرت صاحب کے خصوصی رفقاء میں شامل تھے ) اور ان سے حضرت صاحب سے ملاقات اور اشتہار کا تذکرہ کر کے ان کی رائے طلب کی۔انہوں نے حضرت صاحب کے دعوی کی وضاحت کی اور بتایا کہ ہم تو احمدی ہو چکے ہوئے ہیں آپ بھی بیعت کر کے جماعت میں داخل ہو جائیں۔چنانچہ چوہدری صاحب سیکھواں سے سیدھے قادیان چلے گئے۔