مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 321 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 321

321 Thou O my God, has changed the tempest to a breeze; Thou hast delivered the soul of the poor one like {a bird from the net and like} prey from the mouth of lions۔"(P267-268)۔۔۔۔"I thank Thee, O Lord, for Thou hast placed me beside a fountain of streams in an arid land, and close watered ina wilderness" to a spring of waters in a dry land, and besides a(Page:278) یعنی ”اے میرے رب میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے میری جان کو زندوں کی پوٹلی میں رکھا اور گڑھے میں پھینکنے کے لئے جو پھندے تیار کئے گئے تھے تو نے ان سے بچانے کے لئے میرے اردگرد حفاظتی باڑ لگادی۔متشد دلوگ میری جان کے پیچھے صرف اس لئے پڑ گئے تھے کہ میں تیرے عہد سے چمٹا رہا۔یہ دھوکہ بازوں کا گروہ اور شیطانی ہجوم نہیں جانتے کہ تو نے ہی مجھے کھڑا کیا ہے اور تو ہی اپنے رحم سے میری جان بچائے گا کیونکہ میرے سارے قدم تیری منشاء کے مطابق اٹھتے ہیں۔“ پھر استاد نظم نمبر ۸ ( سابقہ نمبر۳) میں عرض کرتا ہے : ”اے میرے خالق میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ تو نے ہمیشہ مجھ پر نظر رکھی۔تو نے ہی مجھے جھوٹے مفسرین کے تعصب سے بچایا اور نیز خوشامد پسند گروہ سے تو نے اس عاجز کی جان ان سے چھڑائی جنہوں نے تدبیر کی تھی کہ اس کا خون بہا کر اسے تباہ کر دیا جائے اور یہ صرف اس لئے کہ وہ تیری خدمت میں لگا تھا۔“ نیز استاد اپنی نظم نمبر ۳۱ (سابقہ نمبر (۸) میں عرض گزار ہیں: ”اے خدا میں تیرا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس زمانہ میں جب کچھ عرصہ میں نے ان سخت نافرمانوں کے درمیان گزارا تو نے مجھے چھوڑا نہیں۔۔۔۔۔اے خدا تو نے مجھے آدم زادوں سے پناہ دی اور اپنی باتوں ( یا قانون ) کواس وقت تک میرے دل میں پوشیدہ رکھا جب تک میرے بچائے جانے کو ظاہر کر دے۔تو نے میری جان کو رنج والم کی گھڑیوں میں نہیں چھوڑا اور روح کی تلخی کے وقت جب میں درد سے کراہ رہا تھا تو تو نے میری آہ وزاری کو سنا اور میری غم بھری فریادوں کو بہپایہ قبولیت جگہ دی۔۔۔شریر ظالموں نے میرے خلاف دکھوں کے طوفان کھڑے کر دیے۔وہ سارا دن میری جان پر ہتھوڑے چلاتے رہے۔پراے خدا تو نے اس