مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 307 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 307

307 اور اسکی آخری غرض شیطانوں کو رجم کرنا ہے جو کہ خدا نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر منکشف فرمائی۔اب دوسرا سوال پیدا ہوتا ہے کہ ستاروں کے ٹوٹنے سے شیاطین کیونکر بھاگ جاتے ہیں؟ اس کے جواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’ اور یہ بھید کہ شہب کے ٹوٹنے سے کیونکر شیاطین بھاگ جاتے ہیں اسکا سر روحانی سلسلہ پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شیاطین اور ملائک کی عداوت ذاتی ہے۔پس ملائک ان شہب کے چھوڑنے کے وقت جن پر وہ ستاروں کی حرارت کا بھی اثر ڈالتے ہیں اپنی ایک نورانی طاقت جو میں پھیلاتے ہیں اور ہر ایک شہاب جوحرکت کرتا ہے اپنے ساتھ ایک ملکی نور رکھتا ہے کیونکہ فرشتوں کے ہاتھ سے برکت پاکر آتا ہے اور شیطان سوزی کا اس میں مادہ ہوتا ہے۔پس یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ جنات تو آگ سے مخلوق ہیں وہ آگ سے کیا ضر ر اُٹھائیں گے کیونکہ در حقیقت جسقد ررمی شہب سے جنات کو ضرر پہنچتا ہے اسکا یہ ظاہری موجب آگ نہیں بلکہ وہ روشنی موجب ہے جو فرشتہ کے نور سے شہب کے ساتھ شامل ہوتی ہے جو بالخاصیت محرق شیاطین ہے۔“ (ایضاً حاشیہ صفحہ ۱۲۶۔۱۲۷) جس طرح تمام آسمان فرشتوں سے بھرا پڑا ہے وہیں ان کے ساتھ شیاطین بھی موجود ہوتے ہیں اور ان کی باہم مخالفت ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام لکھتے ہیں: حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آسمان پر ایک قدم بھی ایسی جگہ خالی نہیں جس میں کوئی فرشتہ ساجد یا قائم نہ ہو۔“ ( ایضاً حاشیه صفحه : ۸۹) جب شیطان وحی لانے والے فرشتوں کے کام میں مداخلت کرتے ہیں تو شہب کو چلانے والے فرشتے اپنے نور سے جو شہب کے ساتھ شامل ہوتا ہے ایسے شیاطین کو جلاتے ہیں۔شیاطین کو سزا ظاہری پتھروں اور آگ سے نہیں بلکہ ملائک کے اس نور کے ذریعہ ملتی ہے جو ان کے ساتھ شامل ہوتی