مکتوب آسٹریلیا — Page 306
306 اور حد وثات میں ظاہری اسباب بھی رکھتی ہیں جن کے بیان میں ہیئت اور طبعی کے دفتر بھرے پڑے ہیں لیکن بایں ہمہ عارف لوگ جانتے ہیں کہ ان اسباب کے نیچے اور اسباب بھی ہیں جو مد بر بالا رادہ ہیں جن کا دوسرے لفظوں میں نام ملائک ہے وہ جس چیز سے تعلق رکھتے ہیں اُسکے تمام کاروبار کو انجام تک پہنچاتے ہیں اور اپنے کاموں میں اکثر ان روحانی اغراض کو مد نظر رکھتے ہیں جو مولیٰ کریم نے اُنکو سپرد کی ہیں اور ان کے کام بیہودہ نہیں بلکہ ہر ایک کام میں بڑے بڑے مقاصد ان کو مد نظر رہتے ہیں۔۔۔ٹھہب ثاقبہ کے تساقط کا ظاہری نظام جن علل اور اسباب پر مبنی ہے وہ علل اور اسباب روحانی نظام کے کچھ مزاحم اور سد راہ نہیں۔اور روحانی نظام یہ ہے کہ ہر یک شہاب جو ٹوٹتا ہے دراصل اسپر ایک فرشتہ موکل ہوتا ہے جو اسکو جس طرف چاہتا ہے حرکت دیتا ہے چنانچہ شہب کی طرز حرکات ہی اسپر شاہد ہے اور یہ بات صاف ظاہر ہے کہ فرشتہ کا کام عبث نہیں ہوسکتا اسکی تہ میں ضرور کوئی نہ کوئی غرض ہوگی جو مصالح دین اور دنیا کیلئے مفید ہو۔سو بتوسط ملائک یعنی جبرائیل علیہ السلام آخر الرسل صلی اللہ علیہ وسلم پر یہی ظاہر ہوا کہ ملائک کے اس فعل رمی شہب سے علت نمائی رحم شیاطین ہے۔( آئینہ کمالات اسلام۔روحانی خزائن جلد ۵- حاشیه صفحه ۱۲۲-۱۲۶ حاشیه ) پس ہر واقعہ جو کائنات میں وقوع پذیر ہوتا ہے اسکی دو وجوہات (Causes) ہوتی ہیں ایک تو جسمانی اور طبعی (Physical Cause Under Law of Nature) اور دوسری روحانی (Sprititul Laws of Cause and Effects) اسلئے ہر واقعہ کا جہاں ایک طبعی اثر ہوتا ہے وہیں ایک روحانی اثر بھی ہوتا ہے۔یہ دونوں سلسلے متوازی چلتے ہیں اور ایک دوسرے پر اثر پذیر بھی ہوتے ہیں۔اسلئے ستاروں کے گرنے کی جو بھی طبعی اور سائنسی وجہ اور اثر ہو سکی روحانی وجہ بھی ہوتی ہے۔