مکتوب آسٹریلیا — Page 304
304 ہیں اور ان سے ایک اثر ہوا اور دیگر اشیاء پر پڑتا ہے اور ملائکہ کا اثر شہب میں بھی نفوذ کرتا ہے۔۲۸ نومبر ۱۸۸۵ء میں ۲۷ اور ۲۸ نومبر کی درمیانی رات میں غیر معمولی کثرت سے شہب گرے اور اس وقت ہمارے امام علیہ السلام کو اس نظارہ پر یہ وحی بکثرت ہوئی دیکھو صفحہ 238 برامين يا اَحَـمَـدُ بارَكَ اللـه فِيْكَ مَارَمَيْتَ إِذْ رَمَيْتَ وَلَكِنَّ الله رَمَى اور اسی کے بعد دمدار د والسنین نظر آیا۔اور ۱۸۷۲ء کی رمی مہب غیر معمولی تھی۔الحمد لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِيْنَ پس یہ اور کل کو اکب زینت سماء الدنیا ہیں اور روحانی عجائبات کی علامات ہیں اور نیز ان سے راہ نمائی حاصل ہوتی ہے۔یہی تین فائدے بخاری صاحب نے اپنی صحیح میں بیان فرمائے ہیں۔“ (ایضاً صفحه : ۶۱۷) مادی اشیاء کا روحانی تاثیرات کی قرآن وحدیث سے بہت سی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں مثلاً غذا کا جہاں مادی اثر (Physical Effects) ہوتا ہے وہیں روحانی اثر Spiritual) (Effect بھی ہوتا ہے۔(دیکھیں اسلامی اصول کی فلاسفی صفحہ ۶ )۔سور کے گوشت کا روح پر پلید اثر ( ایضاً صفحہ ۲۹)۔رات کے اندھیرے کا نیند اور آرام سے تعلق جو سائنس سے ثابت ہے اور اسکا روحانی اثر نفس کو کچلنے اور استغفار کرنے پر (الذاریات ۲۰:۵۱۔مزمل ۷۳ :۷ ) وغیرہ۔پس اسی طرح رمی شہب سے کہ شیطان سوزی کوئی قابل تعجب امر نہیں۔خدا نے جو ایسا فرمایا ہے تو لفظاً لفظاً (Litterally) ایسا ہونا عین ممکن ہے۔خواہ سمجھ نہ بھی آئے۔البتہ اشیاء کی طبعی وروحانی صفات واثر ذاتی نہیں بلکہ خدا کے حکم سے ان کو قائم رکھنے والے فرشتے ہیں اسلئے تمام طاقت وقوت خدا ہی کی ہے۔یعنی لاحول ولاقوة الا بالله۔ستاروں کے گرنے اور رحم شیاطین سے تعلق کی وضاحت از حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: اور اگر یہ سوال کیا جائے کہ اس تساقط شہب کو جسکے اسباب بتمامہا