مکتوب آسٹریلیا — Page 300
300 دیکھتا ہے۔آپ اپنی تصنیف ”نورالدین میں ان آیات کی تشریح کی تمہید کے طور پر فرماتے ہیں: مناظر قدرت کو دیکھنے والے مختلف الاستعدا دلوگ ہوا کرتے ہیں مثلاً دوسرے کی آنکھ کو ایک بچہ بھی دیکھتا ہے جو مصنوعی اور اصلی آنکھ میں تمیز نہیں کر سکتا۔پھر ایک عقلمند بھی دیکھتا ہے گو وہ اصلی اور مصنوعی میں فرق کر لیتا ہے مگر آنکھ کے امراض سے واقف نہیں ہوسکتا اور نہ اسکی خوبیوں اور نقصانوں سے آگاہ ہوتا ہے۔پھر شاعر دیکھتا ہے جو اسکے حسن و قبح پر سینکڑوں شعرلکھ مارتا ہے پھر طبیب ڈاکٹر دیکھتا ہے جو اُسکی بناوٹ اور امراض پر صد ہا ورق لکھ دیتا ہے۔پھر موجدین لکھتے ہیں جیسے فوٹو گرافی کے موجد نے دیکھا اور دیکھ کر فوٹو گرافی جیسی مفید ایجادیں کیں۔پھر اُسکے اور بھائی دیکھتے ہیں جنہوں نے عجیب در عجیب ٹیلی سکوپ ایجاد کئے۔پھر اُن سے بالا تر صوفی دیکھتا ہے اور اُس سے بھی اوپر انبیاء ورسل دیکھتے ہیں اور ان سب سے بڑھ چڑھ کر اللہ کریم دیکھتا ہے غرض اسی طرح پر ہزاروں ہزار نظارہ ہائے قدرت ہیں اور ان کے دیکھنے والے 66 الگ الگ نتیجے نکالتے ہیں۔“ (نورالدین بحوالہ درس القرآن فرمودہ حضرت مولا نا مولوی حکیم نورالدین خلیفه مسیح اول مطبوعہ کتاب گھر قادیان اکتوبر ۱۹۳۳ ء صفحه ۶۰۷ - ۲۰۸) حضرت خلیفہ المسیح الاول کی تشریح وو سماء الدنیا سے مراد دنیا کا آسمان ہے وہ آسمان جو نزدیک ہے۔حفظاً : ایک کام تو ستاروں کا زنیت ہے۔دوسرا حفاظت یعنی مخلوقات کی جو زمین میں ہے اپنی تاثیر سے اُسکے زہریلے موادوں کو دور کرتے ہیں۔شیطان مَّارِدٍ : یہ ایک مخلوق ہے جو نا پاک اور مخلوق سے دور رہتی ہے۔عرب اُسے کا ہن کہتے ہیں۔شانہ بین بھی انہی میں داخل ہیں۔وہ انبیاء کی اتباع نہیں کرتے اور غیب کی باتوں کی ٹوہ میں لگے رہتے ہیں۔لا يَسمَّعُوْنَ إِلَى