مکتوب آسٹریلیا — Page 294
294 رسول تک۔پس دوسری روایات جو بتاتی ہیں کہ جن اسے اچک لیتے ہیں ان کے یہی معنے ہو سکتے ہیں کہ مور دوحی کے پاس جب وحی پہنچ جاتی ہے اور جب وہ اس کا اعلان کر دیتا ہے اُس کے بعد شیطان اُسے اچکتے ہیں اور کئی جھوٹ ملا کر انہیں اپنے اشباع میں پھیلا دیتے ہیں“ شہاب ثاقب کا نجومیوں اور کاہنوں سے کوئی تعلق نہیں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں: (ایضاً صفحه ۲۴) اگر یہ معنے درست ہوں تو چاہئے کہ جب کوئی نجومی حساب لگائے اور زائچہ تجویز کرے اُسی وقت مہب آسمان سے گرنے لگیں۔مگر یہ نہیں ہوتا۔پس واقعات ان معنوں کو رد کر رہے ہیں۔رات دن ہزاروں نجومی کا ہن۔رمال۔جفار۔جوتشی۔پنڈت۔اسٹرانومر اسٹرالوجر ان کاموں میں مشغول ہیں اور غیب کی خبریں معلوم کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔اگر ان لوگوں کا تعلق شیطانوں سے ہے اور شیطان آسمان سے اُچک کر انہیں خبریں بتاتے ہیں تو رات اور دن شہب کی بارش ہوتی رہنی چاہئے جو جو شخص ستاروں کا تھوڑا سا علم بھی جانتا ہو وہ بتا سکتا ہے کہ یہ خلاف عقل بات ہے۔علم نجوم ورمل وغیرہ گولغو اور فضول ہیں مگر حسابی اصول پر قائم ہیں۔جنات کا اس معاملہ میں (ایضاً صفحه ۴۴) کوئی بھی دخل نہیں“ الہامی زبان میں مذہبی نظام کو نظام شمسی سے مشابہت دی جاتی ہے حضرت مصلح موعودؓ قرآن کریم سے یوسف علیہ السلام کی خواب جس میں چاند ستاروں کے سجدہ کرنے کا ذکر ہے سے استدلال کرتے ہیں کہ : اس خواب اور اس کی تعبیر سے جو خود قرآن کریم نے بیان فرمائی