مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 285 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 285

285 فہمائش کرے گا۔اس طرح دنیا تاریکی میں ہے اور جولوگ اس میں رہتے ہیں بغیر روشنی کے ہیں کیونکہ تیرا قانون جل گیا۔پس کوئی نہیں جانتا ان چیزوں کو جو تو کرتا ہے اور ان کاموں کو جو شروع ہونے والے ہیں۔لیکن اگر مجھ پر تیری مہربانی ہے تو تو روح القدس کو مجھ میں بھیج اور میں لکھوں تمام جو کہ دنیا میں ابتدا سے ہوا ہے اور جو کچھ تیرے قانون میں لکھا تھا تا کہ تیری راہ کو پاویں اور دہ لوگ جو اخیر زمانہ میں ہوں گے زندہ رہیں اور اس نے مجھے کو یہ جواب دیا کہ جا اپنے راستے سے لوگوں کو اکٹھا کر اور ان سے کہہ کہ وہ چالیس دن تک تجھ کو نہ ڈھونڈیں۔لیکن دیکھ تو بہت سے صندوق کے تختے تیار کر اور اپنے ساتھ سیریا (Saria) ، ڈبریا (Dabria) ، سلیمیا (Selemia)، اکانس (Echanus) اور اسیل (Esial) کو لے اور ان پانچوں کو جو بہت تیزی سے لکھنےکو تیار ہیں اور یہاں آور میں تیر سے دل میں مجھ کی شمع روشن کروں گا جو نہ بجھ گی تو وقتیکہ وہ چیزیں پوری نہ ہوں جو تو لکھنی شروع کرے گا“ (آیت ۲-۲۵) غرض حضرت عزیر اور پانچ روز نویس چالیس روز تک لوگوں سے الگ تھلگ اور الہامی تائید سے انہوں نے چالیس دن میں دو سو چار کتابیں لکھیں ( آیت ۴۴) جن میں نہ صرف تورات بلکہ وہ سب کتابیں جو حضرت موسیٰ سے لے کر حضرت عزیز تک پیغمبروں کی طرف منسوب تھیں شامل ہیں۔مزید برآں یہ کہ تاریخی طور پر اس بات کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جاسکتا کہ یہودیوں میں تو رات کو حفظ کرنے کا عام رواج ہو۔بلکہ آج تک بھی یہود میں تو رات کو حفظ کرنے کا عام رواج نہیں اور جبکہ ان میں حفظ کا رواج ہی نہیں تھا یہ کیونکر قیاس کیا جاسکتا ہے کہ جن لوگوں نے دوبارہ تو رات کو لکھا تھا انہوں نے اسے صحیح طور پر ہی لکھا تھا۔تو رات کی دوبارہ تدوین یہود کی جلاوطنی کے ایک لمبے عرصہ بعد ہوئی ہے۔بخت نصر یہود کو قید کر کے بابل لے گیا تھا اور وہاں اس نے ایک مدت تک ان کو اپنی غلامی میں رکھا۔یہ مدت تقریباً ساٹھ ستر سال بنتی ہے۔دیکھو تاریخ بائبل مصنفہ پادری ولیم۔جی