مکتوب آسٹریلیا — Page 15
15 گوشت پڑا ہوا ہو۔اس تجربہ سے کئی دلچسپ باتیں سامنے آتی ہیں جن پر غور کر کے انسان خود اپنی اصلاح کے سلسلہ میں فائدہ اٹھا سکتا ہے۔دماغوں کے فعل کا مشاہدہ جس طریق سے کیا گیا اس کو MRI یعنی Magnetic Resonance Imaging کہا جاتا ہے۔انسان جب کچھ سوچتا ہے ،محسوس کرتا یا کام کرتا ہے تو دماغ (Brain) کا جو خاص حصہ کام کرتا ہے وہ اس طریق سے دیکھا جاسکتا ہے۔ہر کام کے لئے دماغ کا ایک مخصوص حصہ فعال ہوتا ہے جس طرح زبان کے حصے کڑوے، میٹھے اور کھٹے مزوں کے لئے مخصوص ہیں۔انسانی دماغ میں تقریباً ایک سوارب خلیات (Brain Cells) ہوتے ہیں۔جتنے پیدائش پر خدائے رحمن کی طرف سے عطا ہوتے ہیں عمر بھر تقریباً اتنے ہی رہتے ہیں ان میں اضافہ نہیں ہوتا ہے۔پیدائش سے لے کر عمر بھر انسان جو کچھ سوچتا ہے محسوس کرتا یا کام کرتا ہے اس سے ان خلیات میں باہم کنکشن یا سرکٹ بنتے رہتے ہیں۔جتنا زیادہ کوئی دماغ سے کام لیتا ہے اتنے ہی دماغ میں کنکشن بنتے جاتے ہیں اور انسان ان معاملات میں ذہین ہوتا جاتا ہے۔کہتے ہیں کوئی انسان اپنے دماغ کا پانچ فیصد استعمال کرتا ہے کوئی دس فیصد اور ۱۵ فیصد تک استعمال کرنے والے خوش قسمت انسان تو بہت ہی تھوڑے ہوتے ہیں۔انسان کے آباؤ اجداد کی جو کھوپڑیاں ملی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ گذشتہ ۳۰ ہزار سال میں انسانی دماغ کی ساخت یا اس کے خلیات کی تعداد میں کوئی فرق نہیں پڑا جوں کا توں ہی رہا ہے۔اس تجربہ کا ایک نتیجہ یہ ہے کہ کھانے پینے اور مختلف کاموں کے مزے انسان کے اندر ہی سے پیدا ہوتے ہیں۔باہر سے صرف تحریک (Stimulation) ہی ہوتی ہے اور مزا اور ذوق پیدا کرنے اور بڑھانے میں انسان کی اپنی سوچ کا بھی خاصہ دخل ہوتا ہے۔جو شرابی لڑکے شراب میں مزا لیتے تھے ان کے دماغ بھی اسی طرح کے ہو گئے تھے اور شراب کا محض تصور بھی ان کے ذوق کے لئے مہمیز کا کام دیتا تھا۔وہی کھانے جو صحت کی حالت میں مزا دیتے ہیں بیماری کی حالت میں بدمزہ اور کڑوے لگتے ہیں۔اگر چہ یہ تجربہ صرف شراب کی مختلف اقسام کا تصور پیدا کر کے کیا گیا ہے لیکن اگر یہ دوسری دنیاوی لذات پر کیا جاتا تو بھی ویسے ہی نتائج برآمد ہوتے۔لہذا جو مزہ اور ذوق حاصل کرنا چاہتا ہے وہ پالیتا ہے اور جو توجہ نہیں کرتا وہ نہیں پاتا۔