مکتوب آسٹریلیا — Page ii
iii مشاہدات کو قرآن مجید، احادیث نبویہ اور مامور زمانہ حضرت اقدس مسیح موعود اور آپ کے خلفاء کرام کے ارشادات و فرمودات کی روشنی میں دیکھتے ہیں کہ یہی ہمارے لئے آسمانی روشنی اور ہدایت کے وہ محکم اور مستحکم ذرائع ہیں جن کے تابع رہنے سے انسان فکر و عمل کی لغزشوں سے محفوظ رہ سکتا ہے۔مکرم خالد سیف اللہ خان صاحب ان آسمانی و نورانی ذرائع ہدایت سے فیضیاب ہوتے ہوئے نہایت خوش اسلوبی سے اور بڑی نفاست اور سلاست کے ساتھ سادہ مختصر مگر اثر انگیز الفاظ میں اپنے خیالات ومحسوسات کو قارئین کے لئے پیش کرنے کا ملکہ رکھتے ہیں۔مَا شَاءَ اللهُ اللَّهُمَّ زِدْ وَبَارِكْ - مکرم خالد سیف اللہ خان صاحب نے بڑی کثرت سے الفضل انٹر نیشنل کے لئے مضامین بھجوائے۔کچھ شائع ہوئے اور کچھ نہیں ہوئے۔مگر انہوں نے نہ تو کبھی شائع نہ ہونے والے مضامین پر کوئی شکوہ کیا ، نہ ہی مرسلہ مضامین کی اشاعت تک اپنی نئی نگارشات کو روکا اور نہ ہی کسی مضمون میں ادارتی کانٹ چھانٹ پر بُرا منایا بلکہ نہایت انکسار اور تواضع کے ساتھ الفضل انٹرنیشنل کے لئے اپنا بے لوث قلمی تعاون مسلسل جاری رکھا۔میرے نزدیک یہ بات آپ کی سلسلہ سے گہری محبت اور عرفان پر دلالت کرتی ہے۔آپ ذاتی تجربہ سے اس حقیقت کو بخوبی جاتے ہیں کہ جماعت کے اخبارات و رسائل کے لئے لکھنا جماعت پر احسان نہیں بلکہ فی الحقیقت خود لکھنے والے کے لئے سعادت و برکت کا موجب ہوتا ہے اور وہ لکھنے والے اپنے محبوب امام خلیفہ وقت کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں ان مضامین سے استفادہ کرنے والے احباب جماعت کی بھاری اکثریت کی ان دعاؤں میں شامل ہوتے اور ان سے حصہ پاتے ہیں جو وہ دین کی خدمت کرنے والوں کے لئے کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح پاک کی اس جماعت میں مختلف علوم کے ماہرین موجود ہیں جو دینی و دنیوی علوم پر گہری دسترس رکھتے ہیں مگر بہت سے محققین ، ریسرچ سکالرز ، صاحب علم و عرفان دوست اپنے آپ کو پردوں میں لیٹے ہوئے ہیں اور ڈر مکنونہ کی طرح ہیں۔فی زمانہ اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ وہ سلطان القلم حضرت اقدس مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوۃ والسلام کی غلامی میں قلمی اسلحہ سے لیس ہو کر اور فتح کا علم ہاتھوں میں لے کر علمی و قلمی جہاد کے لئے میدان