مکتوب آسٹریلیا

by Other Authors

Page 149 of 443

مکتوب آسٹریلیا — Page 149

149 کوٹامنڈرا کی نمائش گراؤنڈ سے دو میل دور ہی روک دئے گئے وہ بقیہ دومیل کا سفر کبھی طے نہ کر سکے۔پتہ نہیں کیوں؟ وہاں اس ادارہ میں لڑکیاں ایک دوسرے کا سہارا بنتیں۔وہاں ایک لڑکی Alice میرا اتنا خیال رکھتی کہ میں اسے اپنی رضاعی والدہ مجھتی تھی۔وہ اٹھارہ سال کی عمر کی وہاں سے چلی گئی۔میری عمر اس وقت تیرہ سال تھی۔اس کے جانے پر میرا برا حال ہو گیا۔مجھے لگتا تھا جیسے کسی نے مجھ سے میری ماں چھین لی ہے۔لیکن بعد میں میں نے اسے کبھی نہیں دیکھا۔“ رپورٹ کے مطابق: قدیم باشندوں کو اپنے اندر سمو لینے Assimilation کی پالیسی پر عمل کے دوران ایبور جنل والدین از روئے قانون اپنے ایسے بچوں سے رابطہ قائم نہیں کر سکتے تھے جن کو مختلف اداروں میں رکھا ہوا ہو۔ایسے کسی بچہ کے ساتھ کوئی تعلق رکھنا جو ان اداروں میں مقیم ہو یا ایسے کسی ادارہ میں داخل ہونا قانونی طور پر جرم تھا۔“ کمیشن کے سامنے کئی دردناک داستانیں بیان کی گئیں۔اخبار میں ایک فوٹو چھپا ہے جس میں ایک گورے نے ہاتھ سے ہل پکڑا ہوا ہے اور چھوٹے پانچ سات سال کی عمر کے کالے بچے جانوروں کی طرح ہل کو آگے سے کھینچ رہے ہیں۔ایک گواہ نے کمیشن کو بتایا کہ د میں نے لڑکیوں کو بالکل ننگی حالت میں کرسیوں کے ساتھ بندھے دیکھا ہے جن پر کوڑے برسائے جارہے تھے۔ہم میں سے سبھی کمروں میں بند کئے جانے کی اذیت برداشت کر چکی ہیں۔ہمیں اندھیرے کمروں میں بند کر دیا جاتا تھا۔“ مذکورہ بالا رپورٹ کے جو چند اقتباسات اخباروں میں شائع ہوئے ہیں ان سے بہت گوروں کو یہ احساس ہوا ہے کہ ہم اور ہمارے آباؤ اجداد کالے قدیم باشندوں پر ظلم کرتے رہے ہیں۔