مکتوب آسٹریلیا — Page 95
95 قرآن کریم خود اپنے لئے اور دوسروں کے لئے دعا کرنے اور کرانے کے تعلق میں فرماتا ہے:۔(اے رسول ) تو ان سے کہہ دے کہ اگر تمہاری طرف سے دعا نہ 66 ہو تو میرا رب تمہاری پر واہ ہی کیا کرتا ہے۔۔۔(الفرقان: ۷۸) نیز بتاؤ تو ) کون کسی بے کس کی دعا سنتا ہے جب وہ اس (خدا) 66 سے دعا کرتا ہے اور (اس کی) تکلیف دور کر دیتا ہے۔(النمل:۶۳) ”اور تمہارا رب کہتا ہے مجھے پکارو میں تمہاری دعا سنوں گا۔۔۔66 (المومن: ۶۱) ”اور (اے رسول) جب میرے بندے تجھ سے میرے متعلق پوچھیں تو ( تو جواب دے کہ ) میں (ان کے ) پاس ہی ہوں۔جب دعا کرنے والا مجھے پکارے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں۔سو چاہئے کہ وہ ( دعا کرنے والے ) بھی میرے حکم کو قبول کریں اور مجھ پر ایمان لائیں تو وہ ہدایت پائیں (البقرة: ۱۸۷) اور جولوگ ان کے زمانہ کے بعد آئے وہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم کو اور ہمارے ان بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لا چکے ہیں اور ہمارے دلوں میں مومنوں کا کینہ نہ پیدا ہونے دے۔اے ہمارے رب تو (الحشر: 1) بہت مہربان اور بے انتہا کرم کرنے والا ہے“ ”اے میرے رب مجھے اور میری اولاد ( میں سے ہر ایک ) کو عمدگی سے نماز ادا کرنے والا بنا (اے ) ہمارے رب ( ہم پر فضل کر ) اور میری دعا قبول فرما۔اے ہمارے رب جس دن حساب ہونے لگے اس دن مجھے اور میرے والدین کو اور تمام مومنوں کو بخش دیجو (ابراهیم :۴۲-۴۱) صحیح مسلم میں ہے کہ ابودرداء کہتے ہیں کہ میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ کہتے سنا کہ جب کوئی مسلمان اپنے بھائی کے لئے غائبانہ طور پر دعا کرتا ہے تو ایک فرشتہ کہتا ہے کہ خدا کرے تیرے ساتھ بھی ایسا ہی ہو۔نیز آپ نے فرمایا کہ دعا عبادت کا مغز ہے۔