مجالس عرفان — Page 54
۵۴ ہوا۔حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی زندگی میں غلبہ عطا ہوا لیکن قربانیوں کے دور سے گزرے بغیر نہیں ہوا۔حضرت عیسی کو زندگی میں نہیں ہوا۔ان کی قوم نے تین سو سال قربانیاں دی ہیں اور لیے دور کی قربانیوں کے بعد جب لوگ سمجھتے تھے ہم ان کو مخالفت سے مٹادیں گے، وہ بڑے ہو کر اُبھرتے رہے۔ہمارے نزدیک آنے والے امام کو مسیح ابن مریم راسی وجہ سے کہا گیا ہے۔یہ پیشگوئی تھی کہ جس طرح موسی کے مسیح نے لیے عرصے تک قربانیاں دی تھیں اور صبر و رضا کے ساتھ منتقل مزاج ہے، محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی اُمت میں بھی ایک ویسا ہی سیج پیدا ہو گا جومشقتوں، مخالفتوں کے باوجود ثابت قدم رہے گا۔اس کی قوم کے ساتھ وہ سارے سلوک کئے جائیں گے ، گھر جلائے جائیں گئے زندہ جلائے جائیں گے ، کافر کہلائے جائیں گے، ہر بات ہوگی لیکن ہر مخالفت کے بعد وہ پہلے سے بڑھ کر نکلے گی۔اور رفتہ رفتہ اسلام کے غلبے کے اوپر منتج ہو جائے گا۔یہ ہے ہمارا عقیدہ اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ ہو رہا ہے۔دنیا کے ہر ملک میں ہر مخالفت کے باوجود جماعت خدا کے فضل سے پھیلتی جارہی ہے۔اس ملک میں ہم نے عظیم الشان قربانیاں دی ہیں۔ہر دور میں ۱۹۵۳ ء میں بھی دیں ، ۱۹۳۳ ۱۹۳۴ء میں بھی دیں، ۱۹۷۴ء میں بھی۔دیں اور اس کی تو آپ کو یاد بھی ہوں گی۔ایک ایک گاؤں میں لوگ مارے گئے، جلائے گئے، مال لوٹے گئے، بیویاں چھینی گئیں ، بچے چھینے گئے پھر بھی ثابت قدم رہے، اللہ کے فضل سے نتیجہ کیا نکلا، کیا ہم کم ہو گئے ؟ کم نہیں ہوئے حکومت پاکستان کے نمائندہ جنرل چشتی نے بیان دیا تاء یا 19 میں اور وہ شائع ہوا تمام پاکستان کی اخباروں میں یا بعضا خباروں -1961