مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 39 of 142

مجالس عرفان — Page 39

۳۹ ہیں۔یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی ہو، آسمان کے سیاروں سے اس کا تعلق ہو زمین کے انسانوں کا اس پر بس نہ چل سکتا ہو اور فرمائیں کہ ایسا واقعہ کبھی نہیں ہوا کہ امام مہدی ہونے کا دعویدار موجود ہو اور پھر یہ باتیں پوری ہو جائیں اور وہ بعینہ اسی طرح ہو جائے۔جن لوگوں کو عربی نہیں آتی ان کے سمجھنے کے لئے ایک اور دلیل بھی ہے۔پہلی رات کا چاند بے چارہ جیسا نکلا۔ویسا نہ نکلا ابھی اُنگلیاں اُٹھ ہی رہی ہوتی ہیں تو نظر سے غائب بھی ہو جاتا ہے۔کسی بچے کو نظر آیا کسی کو نہ آیا۔تو امام مہدی کی نشانی ہو اور نشانی ایسی کمزور کہ امام مہدی کیسے دیکھو نکلا تھا۔لیکن گرین لگ گیا اور مولوی کہیں نکلا ہی نہیں۔جس چاند بے چارے کا یہ حال ہو اور اوپر سے اس کو لگ جائے گرمین تو اس کا رہے گا کیا۔باقی وہ نظر ہی نہیں آسکتا۔وہ باریک ہی قوس جس کا ہونا یا نہ ہو تا یعنی To be or not to be یہ سوال بن جائے کہ تھا بھی کہ نہیں بیچارہ اور پر سے اس کو گرہن کی چپیڑ پڑ جائے۔تو یہ کچھے اس کا کیا منہ رہ جائے گا۔تو کیا بحث چلے گی۔اس وقت اگر یہی مراد ہے تو امام مہدی کہے گا دیکھوئیں سچا نکا، پہلی رات کو لگ گیا نا گرمین مولوی کہیں گے جاؤ جھوٹے کوئی نہیں لگا، وہ تو نکلا ہی نہیں۔ایسی لغو بات حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتی ہیں یا بعض لوگ کرتے ہیں کہ اتنی عظیم الشان پیشگوئی جس کا صدیوں سے انتظار ہو رہا ہو نکلے تو اس مشکل میں کہ بحث ہی بدل جائے کہ نکلا تھا کہ نہیں نکلا تھا۔اس لئے وہی درست ہے کہ پہلی رات سے مراد چاند گرہن کی پہلی رات مراد ہے اور لفظ ہلال کی بجائے لفظ قمر قطعی طور پر سو فیصدی ثابت کرتا ہے کہ پہلی تین رات کے چاند آنحضور کے تصور کے کسی گوشے میں داخل نہیں ہوئے تھے۔جب آپ نے