مجالس عرفان — Page 142
نوروں نہلائے ہوئے قامت گلزار کے پاس اک عجب چھاؤں میں بیٹھے رہے ہم یار کے پاس تم بھی اے کاش کبھی دیکھتے سنتے اُس کو آسماں کی ہے زباں یار طرح دار کے پاس یہ محبت تو نصیبوں سے ملا کرتی ہے چل کے خود آئے مسیحاء کسی بیمار کے پاس یونہی دیدار سے بھرتا رہے یہ کاسئہ دل یونہی لاتا رہے مولا ہمیں سرکار کے پاس پھر اسے سایۂ دیوار نے اُٹھنے نہ دیا آ کے اک بار جو بیٹھا تری دیوار کے پاس تو آکر خوش ہے یہاں مجھ سے تو پھر حشر کے دن ایک تیری ہی شفاعت ہو گنہگار کے پاس عبید اللہ علیم