مجالس عرفان — Page 135
۱۳۵ نے یہی جواب دیا تھا کہ اگر عورت کی آواز میں پاکیزہ گیت گایا جا رہا ہو۔اور اس کے نتیجہ میں شر پیدا نہ ہوتا ہو تو کہاں منع کیا ہوا ہے۔خدا نے۔اگر عورت کی آواز سنتا منع سے تو مرد کی بھی منع ہونی چاہئیے ، وہ عورت کے دل میں تحریک پیدا کرے گی۔پیس اگر اشعار صاف اور پاکیزہ ہیں مثلاً در زمین کی نظمیں ہیں اس کے نتیجہ میں گند پیدا ہوسی نہیں سکتا یہ محض لغو بات ہے۔اگر چہ ڈھولک بجانے کی بات اور ہے۔لیکن اس میں بھی اگر اس قسم کے گیت گائے جائیں جن سے معاشرہ میں گند نہ پھیلے تو جائز ہے لیکن ڈھولک پر گندی گالیاں دنیا اور سٹھنیاں دنیا لغویات ہیں ان کو آپ اختیار نہ کریں۔عام گیت چھیڑ چھاڑ کے پیار کی باتیں ہیں مذاق بھی ہوتے ہیں، جائز ہیں اُس میں گندگی اور غلاظتیں نہیں ہونی چاہئیں۔کراچی میں بھی خواتین کی مجالس سوال وجواب میں فوتیدگی کی رسموں کا کئی بار ذکر ہوتا رہا۔چنانچہ اس مسئلہ کے متعلق ایک بہن نے یہ سوال کیا کہ کسی کے فوت ہونے پر گھر والوں کو کھانا کھلانے کا جورواج ہے، اس کی شرعی حیثیت کیا ہے ؟ حضور نے فرمایا۔فوتیدگی پر کھانا بانٹنے کی رسمیں فوتیدگی میں کھانا بانٹنے کا تصور بالکل لغو بے معنی اور بے جوڑ بات ہے سوائے اس کے کہ صدقہ دے کوئی۔اور آپ کسی کے مرے ہوئے کا صدقہ تو نہیں کھائیں گے اس لئے ظاہر بات ہے کہ آپ اس کو رد کر دیں گی۔اگر لوگ یہ کہیں کہ اس کے کھانے سے فوت ہونے والے کو ثواب پہنچتا ہے تو یہ ایک بیہودہ اور لغو رسم ہے جس کا روایت