مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 65 of 142

مجالس عرفان — Page 65

ایک دوسرا سوال ہوا۔قرآن کریم میں سحر کا لفظ استعمال ہوا ہے لیکن آپ لوگ جادو کو کیوں نہیں مانتے ؟ حضور پر نور نے فرمایا۔جماعت احمدیہ ٹونے ٹوٹکے کی قائل نہیں جو قرآن نے تشریح کی ہے اس کے مطابق مانتے ہیں۔دیکھیں ہمارا مسلک بالکل واضح ہے اور اس میں ایک روشنی ہے خدا کے فضل سے۔ہم کہتے ہیں کہ جو محاورہ قرآن اور حدیث میں استعمال ہوا ہو اس کا ماخذ ہی روشنی کا ماخذ ہے۔اور محاورہ اگر قرآن کریم سے ثابت ہو جائے کہ اس کا یہ معنی ہے تو اس میں انسان اپنی طرف سے جب معنی ڈالے گا تو وہ معنی بگڑ جائیں گے۔چنانچہ سحر کا لفظ قرآن کریم نے حضرت موسی اور فرعون کے مقابلے کے وقت استعمال فرمایا۔ایک طرف جادوگر تھے ایک طرف حضرت موسی تھے۔جادوگروں نے رسیاں پھینکیں اور بظاہر سانپ بنا دیا اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔انہوں نے جادو کیا مگر کیا جادو تھا ؟ فرماتا ہے سَحَرُوا العَنَ النَّاسِ اُنہوں نے لوگوں کی آنکھوں پر جادو کیا۔پھر فرماتا ہے۔ان کے لئے یادہ خیال کرنے لگے کہ وہ سانپ ہیں۔حالانکہ وہ رسیاں کی رسیاں رہیں۔تو جادو کی حقیقت جو قرآن کریم نے بیان فرمائی ہے اس کو Modern Terms میں مسمریزم کہتے ہیں۔اسینَ النَّاسِ کو ایسا دھوکہ دے دینا جس کے نتیجے میں حقیقت اگرچہ وہی رہے مگر وہ تبدیل شدہ شکل میں نظر آئے۔یہ ہے قرآن کریم میں مبینہ جادو۔دنیا کا کوئی احمدی اس جادو کا انکار نہیں کرتا۔لیکن جہاں ٹوٹے