مجالس عرفان — Page 41
ہو گا۔جب تک مریں نہ نشانی نہ پوری ہو۔اور جب جھوٹے کے طور پر مر جائے گا تو کون ہے جو اس کو وہاں دفن کرنے دے گا۔لوگ تو انتظار کر رہے ہوں گے کہ ہم مانیں گے نہیں اس لئے کہ ابھی مرا نہیں اور جب تک مرے نہ اور پریشانی پوری نہ ہو جائے اس وقت تک ہم ایمان نہیں لاتے اور جب مر جائے گا تو پھر اس کو وہاں دفن کون ہونے دے گا۔ایک تو یہ بات قابل غور ہے دوسرا یہ سوچیے کہ کون ہے ایسا انسان کوئی ہے پیدا ہوا جو حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر کو اکھاڑے۔سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔سارے مسلمان جین کو غیرت اور حیا ہے وہ کٹ جائیں گے اس سے پہلے کہ حضور اکرم کی قبر کی طرف کوئی بدنیتی سے ہاتھ اٹھائے۔تو معنی آپ روحانی کلام کے جسمانی کر لیتے ہیں اور پھر اُلٹے کیلئے اعتراض شروع کر دیتے ہیں۔اپنے دین کو بھی بگاڑ دیتے ہیں اور حقیقت حال سمجھنے سے بھی خالی رہ جاتے ہیں۔کلام رسول کا معنی روحانی معنوں میں کریں گی تو سمجھ آئے گی ورنہ نہیں سمجھ آئے گی۔پنجابی میں اُردو میں محاورہ چلتا ہے کہ تو نے میرے ساتھ دفن ہونا۔تو میری قبر پیناں ایں جس کا انجام ایک ہو اس کے لئے یہ آتا ہے کہ اس کی قبر اور میری قبر ایک ہے اور یہ محاورہ ہے زبانوں کا۔آنحضرت نے دو طریق سے اس بات کو بیان فرمایا۔اگر آغانہ ایک ہو انجام ایک ہو تو اس کو پھر جد انہیں کیا جاسکتا۔دوسرے آپ نے تو یہ خبر دی تھی کہ آنے والے امام کے ساتھ بدسلوکی نہ کرتا۔اس کو مجھ سے الگ نہ سمجھنا کیونکہ ایک جگہ فرمایا اس کے ماں باپ کا نام میرے ماں باپ کا نام ، اس کا نام میرا نام ہو گا یعنی آغاز اس کا اور میرا ایک ہی آغاز اور اسکا اور میرا ایک ہی انجام ہوگا یا گویا میری قبر میں دفن ہو گا۔یہ مراد نہیں ہے کہ نعوذ باللہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر اکھاڑی جائیگی