مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 132 of 142

مجالس عرفان — Page 132

۱۳۲ نے فلاں بات کی تھی وہ بالکل پوری ہوگئی اور اس نے جو ساتھ دس گپیں ماری تھیں ان کو بیان کرنے والے چھوڑ دیتے ہیں۔یہ انسانی فطرت کا ایک چپکا ہے کہ فلاں نے ایک واقعہ بیان کیا اور وہ اس طرح ہوا۔تو احمدی نجومیوں کا یہ کہنا تھا کہ انسانی نظرت کی ان ساری کمزوریوں کو پر نظر رکھ کر بخومی کامیاب ہو جاتے ہیں لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ ہاتھ کی لکیروں سے کچھ نہیں پڑھتے ایک اندازہ - ایک حقیقت فرمایا ایک دفعہ لندن یونیورسٹی میں ہم ایک جگہ ایک پارٹی میں جمع تھے مختلف یونیورسٹیوں کے طلبہ کا ایک بڑا دلچسپ Academic (ایکڈیک) اجتماع تھا۔میں بھی وہاں گیا ہوا تھا۔طلبہ سے باتوں باتوں میں پامسٹری (دست شناسی) کے متعلق بات شروع ہوگئی ہیں نے ان سے کہا کہ پامسٹری ہے تو گپ شپ لیکن اس کے باوجود یہ ہو سکتا ہے کہ آدمی بڑے اچھے اچھے اندازے لگائے۔اس نیت سے اگر تم مجھے ہاتھ دکھانا چاہتے ہو تو میں دیکھ لیتا ہوں۔میں ایسے اندازے تمہیں بتاؤں گا کہ تم حیران ہو جاؤ گے۔اور یقین ہو جائے گا کہ بغیر لکیروں کے بھی انسان Features کو کسی حد تک پڑھ سکتا ہے۔ایک صاحب تھے جو بعد میں بی بی سی کے ایک بڑے افسر ہے۔انہوں نے اپنا ہاتھ دکھایا۔میں نے ا کا ہاتھ دیکھ کر کہا کہ آپ کی شادی شدہ زندگی نہایت تاریخ گزرے گی یہاں تک کہ بہت دکھوں میں آپ مبتلا رہیں گے۔آپ کو پہلی تسکین جو نصیب ہوگی وہ تقریباً پچپن سال میں ہوگی۔اس وقت تک آپ کی زندگی بڑی تلخ گزرے گی۔ایک مدت کے بعد جب میں 1940ء میں لندن گیا۔آصفہ بھی میں کے ساتھ تمھیں خودی صاحب کے ہاں ہم ٹھہرے ہوئے تھے میرے کسی دوست نے ان صاحب