مجالس عرفان

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 116 of 142

مجالس عرفان — Page 116

114 کرتی ہیں۔اتنی بات تو غالب بھی سمجھ گیا تھا۔ہم موحد ہیں ہمارا کیش ہے ترک رسوم متیں جب مٹ گئیں ابتدائے ایمان ہوگئیں اگر تم واقعی توحید کے قائل ہو اگر تمہارا یہ دعوی بھی ہے کہ تم موحد ہو تو موعد کا فرض ہے کہ رسم و رواج کو مٹائے اور کاسٹ دے۔ہمارا کیش ہے ترک رسوم۔اگریہ نہیں کرو گے تو پھر مٹی ہوئی اُمتوں کی علامتیں تمہارے اندر ظاہر ہو جائیں گی۔اُمتیں جب مٹ گئیں اجزائے ایمان ہو گئیں، پھر ایمان نہیں ہوتا۔کسی کے ہاتھ کچھ تھوڑا سا ایمان کا ٹکڑا گیا ، کسی کے کچھ کڑ آگیا، کسی نے بہت اخلاص دکھایا تو باداموں پر پھونک دیا۔کسی نے کر دکھایا تو کھائی ہوئی گھٹلیوں پر پھونک دیا سو ہیں تو سہی کہ آپ کا دین کیا بن رہا ہے۔قرآن والا دین تو نہیں حضرت محمد مصطفی کی سنت کا دین تو نہیں ہے۔حضرت اقدس محمدمصطفی صل اللہ علیہ کو کا تو سوئم ہوا۔نگار ہوں ہوئی نہ چالیسواں ہوا، آپ کے کسی خلیفہ کا نہیں ہوا آپ کے کسی صحابی کا نہیں ہوا تو آج کون حق رکھتا ہے ان ریموں سے علاوہ ہیمیں بنانے کا جو آپ کے زمانے میں نہیں تھیں۔توہم تو کہتے ہیں کہ قوم نے اگر زندہ ہوتا ہے۔تو واپس جانا پڑے گا۔اس زمانے میں لوٹنا پڑے گا جو زندگی کا زمانہ تھا اس روشنی میں جانا پڑے گا جو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے نور کی روشنی تھی باقی سب اندھیرا تھا۔