مجالس عرفان — Page 109
کتے سے مثال دے کر اس کے متعلق فرماتا ہے۔ولويتنَا لَرَفَعْتُهُ بِهَا وَلَكِنَّهُ أَخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ اگر ہم چاہتے تو ان بلعم باعور کا رفع فرمالیتے وہی لفظ ہے رفع مینٹی والا۔لیکن یہ بد بخت زمین کی طرف جھک گیا۔اب بتائیے اس کا ترجمہ کیا بنتا ہے؟ اگر علماء کا اعتراض درست ہے کہ جب خدا رفع کرے کسی بندے کا تو مراد جسم سمیت اٹھانا ہوتا ہے۔تو پھر اس کا ترجمہ یہ بنے گا کہ بلعم باعور سانپ بچھو کی طرح زمین میں گھنے کی کوشش کر رہا تھا اور اللہ تعالے اسے کھینچ تان کر اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا۔اور وہ ہاتھ پاؤں مار کر چھٹ کر زمین میں گھس گیا۔کیسا تمسخر بن جاتا ہے، کلام الہی کے ساتھ مذاق کرنے والی بات ہے۔اس لئے روحانی کلام کا ترجمہ اس وقت سمجھ آتا ہے جب معانی معنوں میں کیا جائے۔اللہ جب رفع فرمائے تو قرب الہی مراد ہوتا ہے۔جس طرح اس کو کہتے ہیں رفیع الشان ہے۔وہ شانیں بلند کرنے والا ہے، وہ دیتے بلند کرنے والا ہے۔ان معنوں میں قرآن کریم نے یہ لفظ استعمال فرمایا ہے اور حدیث کا استعمال دیکھ لیجئے تو بعیت بے قرآن کے مطابق ہے ایک ذرہ کا بھی فرق نہیں ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دو مواقع پر لفظ رفع استعمال فرمایا۔بندوں کی نسبت سے ایک حدیث ہے۔اس میں حضور فرماتے ہیں کہ جب خدا کا بندہ عاجی اختیار كتاب رَفَعَهُ اللهُ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِة بالسلسلة (كنز العمال جلد ۲ صفر ۲۵) پھر اس کو ساتویں آسمان پر اٹھا کر لے جاتا ہے جسمانی معنی کرنے کے سارے مواقع یہاں پر موجود ہیں۔ایک اور حدیث میں آگے یہ الفاظ بھی ہیں بالسلسلہ کہ وہ اس کو ساتویں آسمان پر زنجیروں میں پیٹ کہ خدا اُٹھا کنہ لے جاتا ہے۔اب بتائیے۔اگر که فع کا ترجمہ جسم سمیت اُٹھانا جائزہ ہو تو سب سے زیادہ یہ موقع ہے کیونکہ