مجالس عرفان — Page 108
1۔A نے ان کو قتل نہیں کیا۔وہ جھوٹ بول رہے ہیں کہ ہم نے قتل کیا۔وَمَا قَتَلُوهُ يَقِيْنَاهُ بَلْ تَفَعَهُ اللهُ البناء (الساد، ۱۵ ۱۵۸) وہ ہرگز حضرت مینی کو قتل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے بلکہ اللہ نے حضرت علی کا اپنی طرف رفع فرمالیلہ یہ وہ آیت ہے جس کا علماء یہ ترجمہ کرتے ہیں کہ ہم نے عیسی کو زندہ آسمان پر جسم سمیت اُٹھالیا۔اب یہ مسئلہ تو دو منٹ میں حل ہو جائے گا کہ اس کا کیا معنی ہے۔ہم کہتے ہیں کہ کہ مفع کا لفظ قرآن کریم میں اور بھی جگہ تو استعمال ہوا ہے۔خدا نے رفع فرمایا اور بندے گا۔یا خدا رفع کرنا چاہتا تھا کسی بندے کا۔تو قرآن قرآن کی تشریح کرتا ہے۔وہاں لفظ رفع پر غور کہو تو اس لفظ رفع کے معنی سمجھ میں آجائے گا۔سب سے بڑی تصدیق قرآن کی تو قرآن ہی کرتا ہے اور قرآن کے معنی میں کسی اور کی محتاجی بھی نہیں رہتی ایک آیت دوسری کی تشریح کر دیتی ہے۔تو دو جگہیں اپنی ہیں قرآن کریم میں اس کے علاوہ جہاں اللہ تعالٰی نے کسی بندے کے رفع کا ذکر فرمایا ہو اور دونوں موقعوں پر علماء رفع سے جسم سمیت اٹھا نا مراد نہیں لیتے اور نہ لے سکتے ہیں اور قرب الہی کا ترجمہ کرتے ہیں۔مثلاً اللہ تعالے حضرت ادریس کے متعلق فرماتا ہے۔ورفعته مكانا علت از مری مد اور ہم نے ان کو ایک بلند مقام کی طرف اُٹھا لیا یا رفع کر لیا۔اور ترجمہ کیا ہے اس کا ہم نے حضرت اور میں کے درجات بلند کئے ان کو اپنا قرب عطا فرمایا۔کہ فتح کا معنی قرب الہی، خدا کا پیار ایک اور آیت ہے۔بلعم باعور کا نام آپ نے سُنا ہوگا کہ جو ایک وقت میں اپنے زمانہ کا ولی اللہ تھا اور پھر وہ کو نیا داری کی طرف جھک گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو مردود کر دیا۔یہ بلم یا مور کا واقعہ ہے۔اس کا نام لئے بغیر ایک کتے سے اس کی مثال دے کہ دیہاں بھی لفظ کتا آیا ہے) ایک