محضرنامہ — Page 88
^^ ملے گا جو اپنے اعمال پر اتباع نبوی کی مہر رکھتا ہو گا اور اس طرح پر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا بیٹا اور آپ کا وارث ہو گا۔غرض اس آیت میں ایک طور سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے باپ ہونے کی نفی کی گئی اور دوسرے طور سے باپ ہونے کا اثبات بھی کیا گیا تا وہ اعتراض جس کا ذکر آیت اِن شانِكَ هُوَ الاسد میں ہے دُور کیا جائے۔ماحصل اِس آیت کا یہ ہوا کہ نبوت گو بغیر شرعیت ہوا اس طرح پر تو منقطع ہے کہ کوئی شخص براہ راست مقام نبوت حاصل کر سکے لیکن اس طرح پر منع نہیں کہ وہ نبوت چراغ نبوت محمدیہ سے مکتسب اور مستفاض ہو یعنی ایسا صاحب کمال ایک جہت سے تو امتی ہو اور دوسری جہت سے بوجہ اکتساب انوار محمدیہ نبوت کے کمالات بھی اپنے اندر رکھتا ہو اور اس طور سے بھی تکمیل نفوس مستعدہ امت کی نفی کی جائے تو اس سے نعوذ باللہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دونوں طور سے ابتر ٹھہرتے ہیں۔نہ جسمانی طور پر کوئی فرزند نہ روحانی طور پر کوئی فرزند۔اور معترض سچا ٹھہرتا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام ابتر رکھتا ہے۔اب جبکہ یہ بات طے پا چکی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت مستقلہ جو براہ راست ملتی ہے اس کا دروازہ قیامت تک بند ہے اور جب تک کوئی امتی ہونے کی حقیقت اپنے اندر نہیں رکھتا اور حضرت محمدیہ کی غلامی کی طرف منسوب نہیں تب تک وہ کسی طور سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ظاہر نہیں ہو سکتا " تمام نبوتیں اور تمام کتابیں جوپہلے گزر چکیں اُن کی الگ طور پر پیروی کی حاجت نہیں رہی کیونکہ نبوت محمد یہ ان سب پر شتمل اور حاوی ہے اور بجز اس کے سب راہیں بند ہیں۔تمام سچائیاں جو خدا تک پہنچاتی ہیں اسی کے اندر ہیں۔نہ اس کے بعد کوئی نئی سچائی آئے گی اور نہ اس سے پہلے کوئی ایسی سچائی تھی جو اس میں موجود نہیں۔اس لئے اس نبوت پر تمام ہو توں کا خاتمہ ہے اور ہونا چاہیے کیونکہ جس چیز کے لئے ایک آغاز ہے اس کے لئے ایک انجام بھی ہے لیکن یہ نبوت